یوتھ کانگریس کو ریاست بھر میں مضبوط کریں: ہرش وردھن سپکال
عوام کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے حکمراں تنازعات پیدا کر رہے ہیں
یوتھ کانگریس کے نو منتخب صدر شیو راج مورے کی تقریبِ حلف برداری میں کانگریس کے ریاستی صدر کی حکمراں طبقے پر سخت تنقید
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ کانگریس سے کچھ لوگ ضرور الگ ہوئے ہیں، مگر اس سے نئی قیادت ایک موقع ملا ہے۔ ریاست میں 288 اسمبلی نشستیں ہیں جن میں سے اس وقت کانگریس کے 16 ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں۔ اب باقی 272 نشستوں پر قیادت کا موقع یوتھ کانگریس کے پاس ہے۔ نوجوان کانگریسی کارکن عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں اور کانگریس کے نظریے کو سماج کے ہر گوشے تک پہنچا کر ایک مضبوط تنظیم قائم کریں۔ وہ ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں یوتھ کانگریس کے نو منتخب ریاستی صدر شیو راج مورے کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی عہدیداران، ارکانِ اسمبلی اور یوتھ کانگریس کے متعدد رہنما موجود تھے۔
اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاستی کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں بھی نوجوانوں کو زیادہ مواقع دیے گئے ہیں۔ اب جب کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات قریب ہیں، کسی موقع کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے پارٹی کے کام میں پوری توانائی کے ساتھ جٹ جانا چاہیے۔ عوامی مسائل پر آواز بلند کریں اور جدوجہد کریں تو یقیناً آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ کانگریس میں کام کرنے والے کئی کارکنان کو آگے چل کر کانگریس پارٹی میں اہم عہدے ملے ہیں۔ لہٰذا کارکنان تنظیمی کام میں لگیں اور مستقبل کی قیادت تیار کریں۔
نو منتخب یوتھ کانگریس صدر شیو راج مورے نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عہدہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جس کے ساتھ کئی چیلنجز جڑے ہیں، مگر ہم ریاست میں یوتھ کانگریس کی ایک مضبوط فوج کھڑی کریں گے۔ جہاں کہیں بھی ناانصافی دکھائی دے گی، یوتھ کانگریس وہاں عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ نوجوانوں کے مسائل کو لے کر تحریکیں چلائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بوتھ مضبوط کیا گیا تو دہلی بھی دور نہیں رہے گی۔ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کانگریس کا پرچم لہرانے کے لیے آج سے ہی محنت شروع کی جائے۔
پروگرام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاست میں کئی سنگین مسائل ہیں۔ کانوڑ یاترا نہ بھارت کے لیے نئی ہے اور نہ مہاراشٹر کے لیے، لیکن اگر حکمراں وراہ جینتی منانے کی ضد کر رہے ہیں تو یہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قابلِ مذمت بھی ہے۔ یہ ان کا واضح ایجنڈا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو اصل مسائل سے بھٹکانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو صرف کرپشن کی سیاست آتی ہے۔ کل مونوریل کے ساتھ جو واقعہ ہوا، وہ اسی بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ ممبئی کی حالت خستہ بنا دی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں جمع ہزاروں کروڑ روپے کہاں گئے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس پر وائٹ پیپر جاری کرے تاکہ عوام کو حقیقت معلوم ہو سکے۔
MPCC Urdu News 20 Aug. 25.docx