بھارت جوڑو یاترا کو ملنے والی زبردست عوامی مقبولیت کو دیکھ کر بی جے پی کاذہنی توازن بگڑ گیا ہے: ناناپٹولے

بی جے پی کی تنقید سے ’بھارجوڑ یاترا‘ پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے

ممبئی:کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا کو ملنے والی زبردست عوامی مقبولیت کو دیکھ کر بی جے پی کے لیڈران زبردست بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں۔بی جے پی کے لیڈروں کا ذہنی تواز بگڑ گیا ہے اور بگڑے ہوئے ذہنی توازن کی وجہ سے وہ کانگریس کی بھارت جوڑویاتراپر تنقیدیں کررہے ہیں۔لیکن بی جے پی لیڈروں کی ان تنقیدوں سے بھارت جوڑویاترا پرذرا برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ یہ پدیاترا عوام کی زبردست شمولیت کے ساتھ کشمیرتک کا اپنا سفر کامیابی کے ساتھ پورا کرے گا۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کہی ہیں۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے یوم پیدائش پر تلک بھون میں خراج عقیدت کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ ناناپٹولے اس پرگرام میں شریک ہوئے اوروہاں پر موجود میڈیا کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لوگ بی جے پی کے اہنکار سے تنگ آچکے ہیں۔ بی جے پی کے آمریت اور تکبر کی وجہ سے عوام میں اس کے تئیں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔بی جے پی کی اس تنقید کے باوجود بھارت جوڑو یاترا میں عوام زبردست جوش وخروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں جو کانگریس کے نظریات اور بی جے پی کے’توڑو‘ کے مقابلے میں ’جوڑو‘ کی فتح ہے۔جمہوریت اورآئین کے تحفظ کے لیے اور ہندوستان کے اتحاد اور تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے نکلنے والی یہ پدیاترا عدیم المثال ہے۔ اس پدیاترا کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو بھی اس کا نوٹس لینے پر مجبور ہونا پڑا اوروہ دہلی کی مسجد میں جاکر وہاں کے امام سے ملاقات کیے۔پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے کچھ دوسرے درجے کے لیڈر بھارت جوڑو پدیاترا پر غیرضروری تنقیدیں کررہے ہیں،ایسے لوگوں کی بکواس پر توجہ دینے کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔ ایسی تنقیدوں سے وہ بی جے پی کی ہی جگ ہنسائی کا سامان کررہے ہیں۔

اس موقع پر ناناپٹولے نے کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، بی جے پی حکومت نہ مہنگائی کو کنٹرول کرپارہی ہے اور نہ ہی بیروزگاری کو۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مہنگائی وبیروزگاری ملک کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔اس کے علاوہ کسانوں کا مسئلہ ہے جس پر بولنے کے لیے بھی بی جے پی کے پاس کچھ نہیں ہے۔ یہ لوگ عوام کو منھ دکھانے کے لائق ہی نہیں رہ گئے ہیں اور اس لیے وہ پدیاترا پر تنقید کرکے عوام کی توجہ ان سنگین مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ناناپٹولے نے کہا کہ کون کونسا جلسہ کررہا ہے اور کتنا خرچ کررہا ہے یہ کانگریس کے لیے اہم نہیں ہے۔ بی جے پی اگر مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل پرکوئی اجلاس بلاتی ہے توہم لوگ ان کے جلسوں میں شرکت کے لیے لوگوں کو بھیجیں گے۔ تلک بھون میں مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کے مجسموں کو خراج عقیدت پیش کیے جانے کے وقت بھجن بھی گائے گئے۔ اس موقع پر ریاستی نائب صدر چارولتا ٹوکس، سابق ایم ایل اے حسنہ بانو خلفے، کسان کانگریس کے شام پانڈے، ریاستی جنرل سکریٹری مناف حکیم،ڈاکٹر سیدذیشان احمد، سبھاش کناڈے، راجن بھوسلے، راجیش شرما، پرمود مورے، دیوآنند پوار، گجانن دیسائی، جوجو تھامس، سنتوش کینے وغیرہ موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading