- انہیں جھوٹ بولنے کے بجائے ریاست میں سرمایہ کاری لانی چاہئے
ممبئی:ویدانتا فاکسکان کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ یہ پروجیکٹ شندے فڑنویس حکومت کی ناکامی کی وجہ سے گجرات چلا گیا، لیکن اس کا الزام مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ویدانتا اور ویدانتا فاکسکان دو الگ الگ پروجیکٹ ہیں لیکن فڈنویس کے ذریعے اس بارے میں جان بوجھ کر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔
اس ضمن میں مزید بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ دیویندر فڈنویس نے پریس کانفرنس میں ویدانتا کی سرمایہ کاری کے بارے میں غلط معلومات دیں۔ ویدانتا پروجیکٹ فڈنویس کے دور میں آیا اور چلا گیا۔یہ موبائل کا پروجیکٹ تھا جب کہ ویدانتافاکسکان سیمی کنڈکٹر کا پروجیکٹ 1 لاکھ 56 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری والا پروجیکٹ تھا جس سے 1 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوتیں۔ اس سلسلے میں 15؍جولائی 2022کو سیکرٹریز کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواتھا جس میں چھ سات محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی تھی۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ طے کیا گیا تھاکہ ویدانتا فاکسکان کو کتنی اور کس قسم کی رعایتیں دی جانی چاہئیں۔ پانی، بجلی، زمین، مختلف ٹیکسوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔
ویدانتا فاکسکان معاملے میں ایک شخص نے حقِ معلومات قانون کے تحت درخواست دی اورنہایت تیزرفتاری کے ساتھ اس شخص کو اسی دن شام تک معلومات فراہم کر دی گئیں۔ فڈنویس بار بار جھوٹ بولنے کی گھناؤنی کوشش کرتے ہوئے آر ٹی آئی میں بھی انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔اپنے ذریعے کی گئی غلطیوں کو چھپانے کے لیے یہ کوشش کی جارہی ہے۔سچائی یہ ہے کہ شندے-فڈنویس حکومت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ فڈنویس کے دور میں 16؍ لاکھ کروڑ کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے لیکن 16؍روپئے کی بھی سرمایہ کاری ریاست میں نہیں ہوئی۔
لونڈھے نے کہا کہ مہاراشٹر میں پارٹیوں کی سیاست سے پرے ہوکر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور روزگار لایا جانا چاہئے۔اس کے لیے اپوزیشن پارٹیاں بھی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بی جے پی کی سیاست مذہب اور کریڈٹ لینے پر مبنی ہوتی ہے۔ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور فڈنویس کی سیاست یہ بھی ہے کہ کس طرح ریاست کے12 کروڑ لوگوں کودھوکہ دیا جائے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
راہل گاندھی کی قیادت سے متعلق ملکارجن کھرگے کا بیان خوش آئند: نسیم خان
کانگریس پارٹی وراہل گاندھی ہی مرکز میں غیربی جے پی حکومت قائم کرسکتے ہیں
ممبئی:ریاستی کانگریس کے کارگزارصدر وسابق وزیرنسیم خان نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے اس بیان کا استقبال کیا ہے جس میں کھرگے نے 2024کے لوک سبھا انتخابات کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں مرکز میں غیربی جے پی حکومت کے قیام کی بات کہی ہے۔ نسیم خان نے کہا ہے کہ ملکارجن کھرگے نے کانگریس کے لاکھوں کارکنان کے جذبات کا اظہار کیا ہے جو راہل گاندھی کی قیادت میں مرکز میں غیربی جے پی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔واضح رہے کہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے حیدرآباد میں ایک جلسہئ عام کے دوران کہا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں مرکز میں غیربی جے پی حکومت قائم ہوگی۔
نسیم خان نے کہا ہے کہ راہل گاندھی قیادت کے اہل ہیں اور بی جے پی ووزیراعظم مودی کو براہِ راست چیلنج کرنے کی طاقت ملک بھر میں صرف راہل گاندھی میں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے بیشتر لیڈران نریندرمودی وبی جے پی حکومت سے سوال کرتے ہوئے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ راہل گاندھی مودی حکومت سے مسلسل سوالات کرتے رہتے ہیں۔ بیروزگاری، مہنگائی، ملکی معیشت، چین کی دراندازی، کسانوں ومحنت کشوں کے حقوق کے لیے راہل گاندھی ہمہ وقت جدوجہد کررہے ہیں۔ ملک کے لوگوں کا راہل گاندھی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔عوام کو یہ یقین ہے کہ ملک میں جمہوریت، آئین وقومی یکجہتی کی حفاظت صرف اور صرف کانگریس پارٹی وراہل گاندھی کی قیادت میں ہی ہوسکتی ہے۔کانگریس پارٹی ملک کی سب سے پرانی اور تجربہ کار پارٹی ہے نیز سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جو جمہوریت اور آئین کا احترام کرتی ہے۔ ملک بھر میں کانگریس کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہ کانگریس کے نظریے پر عمل پیرا ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہوئی بھارت جوڑو یاترا نے ملک کا ماحول بدل کر رکھ دیا ہے۔اس یاترا میں لوگوں کا جم غفیر اور ان کا جوش وجذبہ بتاتا ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ نسیم خان نے اس یقین کا بھی اظہار کیا ہے کہ 2024 میں مہاراشٹر میں بھی کانگریس پارٹی کی قیادت میں غیربی جے پی حکومت بنے گی۔