مودی سرکار کی نوٹ بندی کا ایک بھی مقصد کامیاب نہیں ہوا

  • عدالت کا فیصلہ صرف اس معاملے میں ہے کہ کیا نوٹ بندی سے قبل آربی آئی ایکٹ کی پیروی کی گئی تھی؟

ممبئی:سپریم کورٹ کا احترام اپنی جگہ لیکن نوٹ بندی سے متعلق اس کا فیصلہ افسوسناک ہے۔بہت ممکن ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس پہلو کو پیشِ نظر رکھا ہو کہ نوٹ بندی کو بہت عرصہ گزرچکا ہے اور معاشی فیصلے کو اس عمل کوواپس نہیں موڑا جاسکتا اور اس کا فائدہ بھی نہیں ہوگا۔لیکن اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ مودی حکومت کی نوٹ بندی کا ایک بھی مقصد کامیاب نہیں ہوا ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔

نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ نوٹ بندی کے پیچھے کا مقصد کالے دھن کو ختم کرنا، دہشت گردی کو روکنا، منشیات کے لئے استعمال ہونے والے پیسوں پر روک لگانا اور جعلی کرنسی کو ختم کرنا تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، کالا دھن باہر نہیں آیا اور جعلی کرنسی نہیں برآمد ہوئی بلکہ اس کے برخلاف لاکھوں لوگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا جس میں تقریباً 100 لوگ مر گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام کو اس قدر تکلیف کیوں دی گئی؟ چھوٹی، چھوٹی صنعتیں کیوں ختم ہوئیں؟ بے روزگاری کیوں بڑھی؟ معیشت کیوں تباہ ہوئی؟ مہنگائی کیوں بڑھی؟ اس کے علاوہ، اگر آر بی آئی کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، تو اے ٹی ایم کی کیلیبریشن کیوں نہیں کی گئی؟ ایسے بہت سے سوالوں کے جواب سپریم کورٹ کے فیصلے سے نہیں ملے۔لونڈھے نے مزید کہا کہ نوٹ بندی کے اثرات بہت برے رہے ہیں اور ہم آج بھی ان کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں،اس سے غلط پیغام جا رہا ہے۔یہ ایسا فیصلہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئینی اداروں کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب یہ ملک آمریت کے تحت چلے گا؟

اتل لونڈھے نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف بات پر اپنا فیصلہ دیا ہے کہ 8نومبر 2016سے قبل آربی آئی ایکٹ 1934کی دفعہ 26(2)پر صحیح طریقے سے پیروی کی گئی تھی یا نہیں۔اس سے کم یا زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایک جج نے تو اس معاملے میں اپنا اختلاف بھی ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے پارلیمنٹ کو بائی پاس نہیں کرنا چاہیے تھا۔سچائی یہ ہے کہ اپنے اس فیصلے میں عدالت نے وٹ بندی کے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading