انتخابی عمل میں پیسے کا بے جا استعمال جمہوریت کے لیے نقصان دہ: سپریا سولے

پیسے کے زور پر جیتی جانے والی انتخابی مہم کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک، موجودہ انتخابی عمل مکمل طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے

نئی دہلی: این سی پی- ایس پی کی قومی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں انتخابی عمل کے دوران پیسے کا جو غیرشفاف اور بے قابو استعمال کیا جارہا ہے، وہ انتخابی عمل کے لیے نہ صرف نقصان دہ بلکہ ملک کے جمہوری نظام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ مہاراشٹر میں کچھ کونسلوں و وارڈوں کے انتخابات ملتوی ہوئے ہیں، اس بابت یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر انتخابات اچانک کیوں ملتوی کیے گئے۔ اس کا جواب خود انتخابی کمیشن کو دینا چاہیے کیونکہ جس انداز میں حالیہ دنوں میں گڑبڑیاں سامنے آرہی ہیں، وہ کسی سنجیدہ جمہوری ریاست کا منظرنامہ نہیں لگتا۔

دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریا سولے نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی یہ الزام لگاتا ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس پیسہ نہیں، تو یہ بالکل درست ہے، ان کے پاس کالا دھن نہیں ہے اور نہ وہ ووٹروں میں رقم بانٹ کر سیاست کرنا چاہتی ہیں۔ وہ صرف عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں ہیں، تجارت یا مالی لین دین کے لیے نہیں۔ اگر طاقت اور دولت کے بل پر لوگ منتخب ہونے لگیں اور حکومتیں اسے اپنی کامیابی سمجھیں، تو یہ جمہوریت کے لیے کھلی تباہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی بڑے زور سے اٹھائیں گی۔

مہاراشٹر کے کچھ کونسلوں و وارڈوں میں انتخابات کے ملتوی ہونے پر انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم یہ فیصلہ کس بنیاد پر ہوا، لیکن جو منظر نظر آرہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ پیسے کے استعمال نے انتخابی شفافیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سپریا سولے نے انتخابی کمیشن سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ وہ فوراً مداخلت کرے اور ان تمام غیرقانونی سرگرمیوں کو روکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی عمل میں اتنی بے ضابطگیاں ہوچکی ہیں کہ یہ پورا انتخاب منسوخ کرکے ازسرِ نو کرایا جانا چاہیے۔ سولے نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ نقل کرکے امتحان پاس کرنے والے طلبہ کے ساتھ جیسے کارروائی کی جاتی ہے، اسی طرح پیسے کے سہارے جیتے ہوئے امیدواروں کے بارے میں عوام کیا سوچیں گے؟ اور وہ اگلے پانچ برس کس منہ سے عوامی خدمت کا دعویٰ کریں گے؟

سپریا سولے نے مہاراشٹر میں انتخابی عمل کی بدنظمی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بار نہ صرف پیسے کا استعمال بڑھا ہے بلکہ حکومتی طاقت اور عملے کی جانب سے بھی غیرمعمولی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ کئی امیدواروں کے نامزدگی فارم داخل ہی نہیں ہونے دیے گئے، جس قسم کی بدنظمی اس بار دیکھنے کو ملی ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ صورتحال دراصل اس بات کا نتیجہ ہے کہ ایک ایسی حکومت کو فیصلہ کن اکثریت مل چکی ہے جو خود انتخابی ضابطوں کا احترام نہیں کرتی۔ انہوں نے نلیش رانے کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شفافیت کے حق میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اگر انتخاب پیسے کی بنیاد پر ہوگا تو سب سے زیادہ دولت رکھنے والے لوگ ہی منتخب ہوں گے اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ سیاست سے باہر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن کو فوری طور پر جاگنا ہوگا اور پیسے کے استعمال سمیت تمام بے ضابطگیوں پر سخت کارروائی کرنی ہوگی، ورنہ اس کے نتائج نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔

NCP-SP Urdu News 2 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading