MPCC Urdu News 19 Sep 24

راہل گاندھی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بی جے پی خوفزدہ ہے، اس لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں: رمیش چنیتھلا

جان سے مارنے کی دھمکیاں برداشت نہیں کریں گے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے: نانا پٹولے

دھوکہ دہی کی بنیاد پر بننے والی بدعنوان حکومت کو ہٹائیں اور اگلا وزیر اعلیٰ مہاوکاس اگھاڑی سے بنائیں: بالا صاحب تھورات

کوکن میں کانگریس پارٹی کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں، کوکن سے زیادہ سے زیادہ اسمبلی سیٹیں جیتیں: وجے وڈیٹی وار

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی کوکن ڈویژن کی جائزہ اجلاس کا بھائیندر میں انعقاد

ممبئی: لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کو حکمراں پارٹی کے رکن پارلیمنٹ، ایک ایم ایل اے اور ایک مرکزی وزیر کی طرف سے دی گئی دھمکی پر کانگریس پارٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنیتھلا نے کہا ہے کہ ملک و بیرون ملک میں راہل گاندھی کی شہرت اور مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وہ ملک کے واحد لیڈر ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف سخت لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی بی جے پی کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے بی جے پی خوفزدہ ہے جس کی وجہ سے بی جے پی و اس کے اتحادی لیڈر مسلسل ہمارے لیڈر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ایک نڈر لیڈر ہیں اور وہ اس طرح کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔

کانگریس پارٹی کی کوکن ڈویژن کی جائزہ میٹنگ جمعرات کو بھائیندر (مغربی) میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانگریس مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنیتھلا، ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق وزیر محصول بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، قانون ساز کونسل میں کانگریس گروپ کے لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، سی ڈبلیو سی کے رکن اور ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری بی ایم سندیپ، ریاستی کارگزار صدر مظفر حسین، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، سابق ایم پی حسین دلوائی اور ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے سمیت کئی کانگریسی عہدیدار موجود تھے۔

اس موقع پر رمیش چنیتھلا نے کہا کہ کانگریس آج مہاراشٹر میں سب سے بڑی پارٹی ہے اور ہم مہا وکاس اگھاڑی میں شامل پارٹیوں کے ساتھ مل کر اسمبلی انتخابات لڑیں گے۔ انہوں نے قائدین اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ کوکن خطہ میں کانگریس پارٹی کو مضبوط کریں۔ چنیتھلا نے یقین ظاہر کیا کہ مہاراشٹر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت برسراقتدار آئے گی اور مرکز میں نریندر مودی حکومت کے زوال کی شروعات مہاراشٹر سے ہوگی۔

اس موقع پر ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان شروع کی ہے۔ جہاں مرکزی حکومت نے ملک میں دہشت کا ماحول بنایا وہیں راہل گاندھی نے 4000 کلومیٹر کی پد یاترا کر کے ملک کا ماحول ہی بدل دیا۔ انہوں نے یہ سفر ملک کے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ایک آزاد خیال رہنما ہیں لیکن بی جے پی ایک سازش کے تحت ان کے خلاف کھڑی ہوئی ہے۔ حکمران جماعت کے رہنما ہمارے قائد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پٹولے نے خبردار کیا کہ کانگریس پارٹی اسے برداشت نہیں کرے گی۔ ضرورت پڑی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ مہایوتی حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے۔ عام لوگوں کو گاڑی تلے کچلنے والے حکمران جماعت کے لیڈروں کے رشتہ دار ہیں۔ مہایوتی حکومت بدعنوان طریقے سے آئی ہے۔ آج بھی لوگ ’50 کھوکے‘کو نہیں بھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوان مہایوتی حکومت نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے کام میں بھی بدعنوانی کی ہے۔ جن لیڈروں پر وزیر اعظم نے 70 ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی کا الزام لگایا تھا، انہیں چار دن بعد حکومت میں شامل کیا گیا اور انہیں خزانے کی چابیاں بھی دے دی گئیں۔ جس نے کہا تھا کہ نہ کھائیں گے اور نہ کسی کو کھانے دیں گے آج وہ بدعنوانوں کو اپنے ساتھ اقتدار میں شامل کئے ہوئے ہے۔ بی جے پی کو بدعنوانی پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار نے کہا کہ مہایوتی حکومت بدعنوانی کے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ محکمہ صحت میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ ایمبولینس کی خریداری میں گھپلہ ہوا ہے۔ اس حکومت نے دھاراوی کی بازآبادکاری کے نام پر ممبئی میں کروڑوں روپے کی زمین اڈانی کو بیچی ہے۔ بی جے پی مخلوط حکومت نے مہاراشٹر کو گجرات کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ وڈیٹی وار نے حکمران پارٹی کی طرف سے راہل گاندھی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا بھی نوٹس لیا، وڈیٹی وار نے کانگریس لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ کوکن میں پارٹی کو بڑھانے پر توجہ دیں اور سخت محنت کریں۔ تاکہ ہم اس علاقے میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت سکیں۔

قانون ساز کونسل میں کانگریس پارٹی کے گروپ لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ماحول بدل گیا ہے۔ بی جے پی حکومت میں لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ لوگ تکلیف میں ہیں اور اب ریاست میں تبدیلی چاہتے ہیں۔اس وقت ریاست میں کانگریس کا ماحول ہے۔ پاٹل نے کہا کہ کوکن کے تمام قائدین اور عہدیداروں کو کانگریس پارٹی کے خیالات کو عوام تک پہنچانے اور ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت کو واپس لانے کے لئے نچلی سطح پر جانا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading