MPCC Urdu News 18 October 25

بی جے پی نے دیوی دیوتاؤں اور قومی شخصیات کو بازار کا حصہ بنا دیا

خودداری، ثقافت اور شناخت کے ساتھ کھیلتے ہوئے ’کارپوریٹ ہندوتوا‘ کا کھیل عروج پر: سچن ساونت

ممبئی: کانگریس کے سینئر ترجمان سچن ساونت نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے برسوں سے مذہب، قومی شناخت اور کھوکھلے قوم پرستی کے نعروں کا استعمال صرف اقتدار کے حصول کے لیے کیا ہے۔ ان کا ’ہندوتوا‘ دراصل نفرت پر مبنی ہے جو دیگر مذاہب کے خلاف تعصب پیدا کرتا ہے اور اسی نفرت کی بنیاد پر وہ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں۔

گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی کا ہندوتوا اب کارپوریٹ مفادات سے جڑ چکا ہے۔ پیسے کے لالچ میں انہوں نے اپنے دیوتاؤں، قابل احترام شخصیات اور قومی ہیروز کی توہین کی ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس کا نام بدل کر ’کوٹک چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس‘ رکھا گیا ہے۔ سدھّی وینایک میٹرو اسٹیشن اب آئی سی آئی سی آئی لومبارڈ، مہالکشمی کا نام ایچ ڈی ایف سی لائف اور آچاریہ آترے اسٹیشن کا نام نپّون انڈیا میوچوئل فنڈ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جو لوگ چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام پر سیاست کرتے ہیں، کیا انہیں ’کوٹک‘ جیسے کارپوریٹ برانڈ کو مہاراج کے نام سے جوڑنا قابلِ قبول ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ کانگریس پارٹی اور مہاراشٹر کی عوام یہ توہین کبھی برداشت نہیں کریں گے۔

سچن ساونت نے مزید کہا کہ کسانوں، مزدوروں، خواتین اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی شناختی سیاست کھیل رہی ہے۔ الہ آباد کا پریاگ راج، فیض آباد کا ایودھیا، دہلی کے راج پتھ کا کرتوِیہ پتھ، ریس کورس روڈ کا لوک کلیان مارگ میں تبدیل کیا گیا، لیکن انہیں پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی جیسے رہنماؤں کے ناموں سے ’الرجی‘ ہے۔ انہوں نے نہرو سائنس سینٹر سے ’نہرو‘ اور سنجے گاندھی نیشنل پارک اسٹیشن سے ’سنجے گاندھی‘ کا نام ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام عوامی ورثہ ہیں، مگر بی جے پی نے انہیں بھی نیلامی کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اب صرف کالبادیوی اور شیتلا دیوی اسٹیشن باقی ہیں، جنہیں وہ جلد ہی کسی کارپوریٹ کے ہاتھوں ’بیچنے‘ کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے ایئرپورٹس، بندرگاہیں، سرکاری ادارے اور عوامی جائیدادیں کارپوریٹس کے حوالے کر دی ہیں۔ مذہب اور ثقافت کے نام پر سیاست کرنے والے آج انہی دیوی دیوتاؤں کے نام فروخت کر رہے ہیں۔ بی جے پی کا دوغلا ہندوتوا واضح طور پر سامنے آ گیا ہے۔ اقتدار کے لیے شناختی سیاست کرنے والی یہ پارٹی اب انہی شناختوں کو کارپوریٹس کے قدموں میں قربان کر رہی ہے۔

MPCC Urdu News 18 October 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading