لوگ پی ایم مودی کی سماج کو بانٹنے کی زبان اور تخریب کاری کی پالیسی سے تنگ آچکے ہیں، ہم مہاراشٹر میں 46 سیٹیوں پر کامیابی حاصل کریں گے: ملکارجن کھڑگے

فوڈ سیکورٹی ایکٹ سب سے پہلے منموہن سنگھ کی حکومت نے متعارف کرایا تھا، نریندر مودی کا الزام بالکل غلط: شرد پوار

بی جے پی کو اب آر ایس ایس کی ضرورت بھی نہیں، آر ایس ایس کے لیے 100واں سال خطرے کا: ادھو ٹھاکرے

ممبئی: نریندر مودی کی سیاست دھوکے بازی اور انتقام کی ہے۔ انہوں نے آئین کو بالائے طاق رکھ کر ای ڈی، سی بی آئی و انکم ٹیکس کے ذریعے مخالفین کو ڈرا دھمکا کر پارٹیوں کو توڑا اور حکومتیں کو گرائیں۔ اصل سیاسی پارٹی کا درجہ بی جے پی کو حمایت دینے والی پارٹی کو دیا گیا اور یہ سب نریندر مودی کے اشارے پر ہوا ہے۔ نریندر مودی مسلسل سماج کو توڑنے کی زبان بول رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے پی ایم مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آج تک کوئی ایسا وزیر اعظم نہیں ہوا جس نے لوگوں کو اکسانے کا کام کیا ہو۔

کانگریس کے قومی صدر نے ہفتہ (18 مئی) کو ہوٹل گرینڈ حیات میں منعقدہ انڈیا الائنس کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عوام بی جے پی کی تخریب کاری کی سرگرمیوں اور پالیسیوں سے تنگ آچکی ہے۔ انڈیا الائنس بی جے پی کی تخریب کاری کی پالیسی اور جابرانہ حکمرانی کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ملک کی سیاسی فضا انڈیا الائنس کے حق میں ہے۔ کھڑگے نے یقین ظاہر کیا کہ انڈیا الائنس مہاراشٹر میں 48 میں سے 46 سیٹیں جیت کر ملک میں حکومت بنائے گی۔

ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی نے 5 نیائے اور 25 گارنٹیاں دی ہیں۔ ان نیائے اور گارنٹیوں کے تحت 30 لاکھ سرکاری نوکریاں، مہالکشمی یوجنا کے تحت غریب خواتین کو ایک لاکھ روپے سالانہ، 25 لاکھ روپے کا ہیلتھ انشورنس اور زراعت پر جی ایس ٹی ہٹانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ کسانوں کو قرض معافی اور جی ایس ٹی کی جگہ نیا ڈائریکٹ جی ایس ٹی لاگو کیا جائے گا جس کی ایک ہی شرح ہوگی۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ یو پی اے حکومت کے ذریعے لائے گئے فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت غریبوں کو ماہانہ 10 کلو اناج مفت دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کانگریس کے قومی صدر نے کہا کہ مودی کا یہ الزام کہ کانگریس اقتدار میں آنے پر ایودھیا میں رام مندر کو منہدم کرے گی، لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ بلڈوزر کلچر کانگریس کا نہیں بی جے پی کا ہے اور کانگریس ایسا کچھ نہیں کرے گی۔

اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس- ایس پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے کہ انڈیا الائنس کی حکومت آنے پر غریبوں کو 10 کلو مفت اناج دینے کا منصوبہ نریندر مودی کے منصوبے پر مبنی ہے۔ ملک میں سب سے پہلے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت فوڈ سیکورٹی ایکٹ لائی تھی اور ہمارا منصوبہ اسی کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان غذائی اجناس کے معاملے میں خود کفیل ہے اور گندم کی پیداوار میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شرد پوار نے کہا کہ پی ایم نریندر مودی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی ساورکر کے معاملے پر کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔ پوار نے کہا کہ جب انتخابات میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے تو راہل اس پر کیوں بولیں گے۔ پی ایم مودی بغیر وجہ کے اکسا رہے ہیں۔

شیوسینا-یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ملک میں صرف ایک پارٹی ہوگی۔ اب ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں نڈا کا کہنا ہے کہ بی جے پی خود منحصر ہو گئی ہے اور اب اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بی جے پی اس تنظیم کو ختم کرنے جا رہی ہے جس نے اس کو سیاسی طور پر جنم دیا۔ ادھو ٹھاکرے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کا 100 واں سال خطرے میں ہے اور بی جے پی آر ایس ایس کو جعلی تنظیم کہہ سکتی ہے، یہاں تک کہ آر ایس ایس پر پابندی بھی لگا سکتی ہے۔ بی جے پی نے پہلے ہی ایم وی اے کے لیڈروں پر بدعنوانی کا الزام لگا کر انہیں بدنام کیا لیکن اب وہ انہیں اپنی پارٹی میں لا کر عزت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ نواز شریف کے کیک کا ذائقہ نریندر مودی کو آج بھی یاد ہے۔ بی جے پی نے 10 سال تک مہاراشٹر کو بدنام کیا۔ ممبئی پروجیکٹ کو لوٹ کر گجرات لے جایا گیا۔ اب انڈیا الائنس کی قیادت والی حکومت آنے کے بعد یہ لوٹ مار بند کر دی جائے گی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ 4 جون کو ملک کا ’جملہ اتسو‘ ختم ہو جائے گا اور اچھے دن کی شروعات ہوگی۔

انڈیا الائنس کی اس مشترکہ پریس کانفرنس میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، مہاراشٹر کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا، مہاراشٹر کانگریس صدر نانا پٹولے، این سی پی-ایس پی کے سربراہ شرد پوار، شیو سینا-یوبی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، ریاستی اسمبلی میں حزبِ مخالف لیڈر وجے ودیٹی وار، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، گوا کانگریس کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت، ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان، راجیہ سبھا کے سابق رکن حسین دلوائی، اے آئی سی سی سکریٹری اور ریاستی انچارج آشیش دووا، بی ایم سندیپ، ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، جنرل سکریٹری و ترجمان سچن ساونت اور چرن سنگھ سپرا سمیت کئی لیڈران موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading