سعودی عرب میں اپنی نوعیت کے پہلے ‘سوئمنگ سوٹ فیشن شو’ کا انعقاد

سعودی عرب میں اپنی نوعیت کے پہلے ‘سوئمنگ سوٹ فیشن شو’ کا انعقاد ہوا جس میں ایک پول کے کنارے ماڈلز نے تیراکی کے لباس پہن کر واک کی۔ یہ فیشن شو جمعے کو سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع تفریحی مقام سینٹ ریجس ریڈ سی ریزورٹ میں منعقد ہوا جہاں مراکش کی ڈیزائنر یاسمینہ قنزل کے کام کو پیش کیا گیا۔

سعودی عرب میں فیشن شو جدت پسندی کی طرف پیش قدمی ہے جہاں کچھ برسوں قبل تک خواتین کے لیے جسم ڈھانپنے والا عبایا پہننا ضروری تھا۔

یاسمینہ قنزل نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ سعودی عرب بہت قدامت پسند ہے۔ لیکن ہم نے خوب صورت سوئمنگ سوٹس دکھانے کی کوشش کی ہے جو "عرب دنیا کی نمائندگی” کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں گزشتہ جمعہ کے روز تاریخ میں پہلی بار ’سوئمنگ سوٹ فیشن شو‘ کا انعقاد ہوا، جس میں ماڈلز نے پیراکی کے نیم برہنہ لباس پہن کر شرکت کی۔ نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق اس فیشن شو میں مراکش کی ڈیزائنر یاسمینہ قنزل کے ڈیزائن کردہ پیراکی کے ملبوسات کی نمائش کی گئی۔
ان میں انتہائی چست ملبوسات میں ماڈلز کے جسم کے بیشتر حصے برہنہ نظر آ رہے تھے اور یہ فیشن شو ایک ایسے ملک میں ہو رہا تھا جہاں چند سال پہلے تک خواتین کے لیے پورے جسم کو ڈھانپنے والا عبایہ پہننا لازمی تھا۔ یاسمینہ قنزل نے اس فیشن شو کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ملک بہت قدامت پسند ہے چنانچہ ہم نے ایسے خوبصورت سوئمنگ سوٹ دکھانے کی کوشش کی ہے جو عرب دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’یہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کا پہلا شو ہے اور اس کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ فیشن شو سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع ایک تفریحی مقام ’سینٹ ریجس ریڈ سی ریزارٹ‘ پر منعقد کیا گیا۔یہ تفریح گاہ بحیرہ احمر ریڈ سی گلوبل کا حصہ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے اہم پراجیکٹس میں شامل ہے۔

سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت وہاں اب خواتین کو ہر وہ کام کرنے کی اجازت ہے، جسے وہ سر انجام دینا چاہتی ہوں جب کہ کچھ سال قبل تک خواتین کو سر اور چہرہ نہ ڈھانپنے پر بھی سزائیں دی جاتی تھیں۔

سعودی عرب میں پہلے سوئم سوٹ فیشن شو کا انعقاد جمعہ کے دن کیا گیا اور اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک میں خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے پر دنیا بھر کے لوگوں نے اظہار برہمی بھی کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading