تریمبکیشور میں فسادکرانے کی بی جے پی کی مکروہ سازش کومقامی لوگوں نے ناکام بنادیا:

ماحول خراب کرنے والے اناچاریہ بھوسلے، آنند دیوے ونتیش رانے کے خلاف ایس آئی ٹی جانچ کرائی جائے
عوام میں کم ہوتی مقبولیت کی وجہ سے بی جے پی کے حوصلے پست ہوگئے ہیں
سماجی ہم اتحاد کوبرقرار رکھنے کے لیے تریمبکیشور کے لوگوں کو شکریہ
ممبئی: گزشتہ کچھ دنوں سے یہ مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرکے فسادات کرانے کی سازش رچ رہیں ہیں۔ بی جے پی سے جڑے لوگوں نے جان بوجھ کر ماحول کو خراب کرنے کے لیے بارہ جیوترلنگوں میں سے ایک تریمبکیشور میں بخور جلانے کا مسئلہ کھڑا کیا ہے لیکن تریمبکیشور کی عوام نے سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کی فساد کرانے کی سازش کوناکام بنادیا۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جانچ کرائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
ناناپٹولے نے تریمبکیشور معاملے میں بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کے مقصد سے سمبھاجی نگر، اکولہ، شیگاؤں، احمد نگر کے بعداب تریمبکیشور میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تریمبکیشور میں ہندو مہاسبھا، آل انڈیا براہمن فیڈریشن، بی جے پی ادھیاتمک گٹھ بندھن، بی جے پی یوا مورچہ، لوجہاد سنگٹھن سمیت بی جے پی کی نظریات سے وابستہ دیگر تنظیموں کے لوگوں نے مندر کی سیڑھیوں پر گوموتر چھڑک کر مہاآرتی کی ہے۔ ہندوؤں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو مندر میں داخل نہ ہونے کے بینر آویزاں کیے گئے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی مقصد کے حصول کی خاطر لوگوں کے درمیان مذہبی کشیدگی پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی عوام نہایت سمجھدار ہے اور وہ بی جے پی کی اس مفسدانہ سازش کا شکار نہیں ہوگی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست کے وزیرداخلہ دیوندرفڈنویس نے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے تریمبکیشور معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ مندر میں کسی نے جبراًداخل ہونے کی کوشش نہیں کی ہے۔ مقامی لوگوں وپولیس محکمے کا کہنا ہے کہ بخود جلانے کی روایت کافی پرانی ہے لیکن بی جے پی سے جڑے لوگ جان بوجھ کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ ایس آئی ٹی کو اناچاریہ بھوسلے، ہندو مہاسبھا کے آنند دوے اور ایم ایل اے نتیش رانے کے خلاف جانچ کرانی چاہئے جنہوں نے تریمبکیشور میں ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
پٹولے نے کہا کہ ناسک کے کالارام مندر میں داخلے کے لیے ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکر نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ ستیہ گرہ کیا تھا۔ آج اسی ناسک ضلع میں مذہبی کشیدگی پیدا کرکے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں کے واقعات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ بی جے پی جان بوجھ کرمذہبی بنیادوں پر لوگوں کو بھڑکارہی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان ختم ہوتے اپنے اثر کے بعد اپنی سیاسی روٹی سینک سکے۔ لیکن تریمبکیشور کے لوگوں کے دانشمندانہ فیصلے اور ناسک کی غیرجانبدار میڈیا نے بی جے پی کی سازش کو ناکام بنادیا۔ ہم اس کے لیے تریمبکیشور کے مقامی لوگوں اور آزاد میڈیا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔