پرگیہ ساتوکے استعفے کا واقعہ افسوسناک، اقتدار اور پیسے کے زور پر توڑ پھوڑ بی جے پی کی گندی سیاست: نانا پٹولے
’کانگریس مکت بھارت‘ کا خواب دیکھنے والی بی جے پی خود ’کانگریس یکت‘ ہو گئی، کانگریس ایک نظریہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا
سنیل کیدار کے لیے ایک قانون اور مانیک راؤ کوکاٹے کے لیے دوسرا کیوں؟
ممبئی: کانگریس کے سابق ریاستی صدر نانا پٹولے نے پرگیہ ساتو کے استعفے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ پرگیہ ساتو نے کن وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں کون سی ترغیبات دیں، لیکن یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بی جے پی مسلسل اقتدار اور پیسے کے زور پر دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو توڑنے کا گھناؤنا کھیل کھیلتی رہی ہے۔ بی جے پی کو اقتدار کا شدید نشہ ہو چکا ہے اور اس پارٹی کو جمہوریت یا آئین کی کوئی پروا نہیں رہی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اقتدار کے ذریعے دولت اور دولت کے ذریعے عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت کا نیا چلن مہاراشٹر میں بی جے پی نے شروع کیا ہے، جس کی بنیاد امیت شاہ کے سیاسی انداز میں نظر آتی ہے۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے لوٹ کر ایم ایل ایز خریدے جا رہے ہیں۔ کانگریس ایک نظریہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔’کانگریس مکت بھارت‘ کے بجائے آج حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی خود ’کانگریس یکت‘ ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دن کانگریس اقتدار میں آئے گی، بی جے پی کی ساری مصنوعی طاقت بکھر جائے گی۔ آج خود بی جے پی کے اندر پرانے کارکنان اور لیڈران میں شدید بے چینی اور بغاوت کی کیفیت ہے۔
پرگیہ ساتو کے استعفے کے باعث قانون ساز کونسل میں کانگریس کی تعداد کم ہونے اور قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے پر اثر پڑنے کے سوال پر نانا پٹولے نے کہا کہ مہایوتی حکومت دراصل قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ دینا ہی نہیں چاہتی۔ بی جے پی کو جمہوری اقدار پر یقین نہیں۔ جنہیں آئین قبول نہیں، ان سے جمہوریت کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ یہ اجلاس قائدِ حزبِ اختلاف کے بغیر ہی چلایا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اندرا گاندھی کے دور میں صرف دو ارکان ہونے کے باوجود قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ دیا گیا تھا۔ جمہوریت کے دو پہیے ہوتے ہیں حکومت اور اپوزیشن لیکن بی جے پی نے اس روایت کو ختم کر دیا ہے۔نانا پٹولے نے کہا کہ پارٹی اس پورے معاملے پر اندرونی سطح پر غور و فکر کرے گی اور اگر کوئی غلطیاں ہوئی ہیں تو انہیں درست کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر عوامی پیسے کی لوٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گورکشا کے نام پر 280 کروڑ روپے دیے گئے، جن میں سے صرف 10 سے 15 فیصد ادارے ہی واقعی کام کر رہے ہیں، باقی جگہ کسانوں اور سرکاری خزانے کی لوٹ جاری ہے۔ تمام محکموں میں یہی صورتحال ہے۔
مانیک راؤ کوکاٹے کے معاملے پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ سنیل کیدار کے لیے ایک قانون اور کوکاٹے کے لیے دوسرا کیوں؟ کیدار کو فوراً نااہل قرار دیا گیا، جبکہ کوکاٹے پر سنگین الزامات اور عدالتی ریکارڈ کے باوجود انہیں بچایا جا رہا ہے۔ یہ حکومت نفرت اور انتقام کی سیاست کر رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مہایوتی حکومت میں سب ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں اور آج حکومت میں صاف طور پر ’چور چور، موسیرے بھائی‘ کی تصویر نظر آ رہی ہے۔
MPCC Urdu News 18 December 25.docx