ممبئی: اورنگ آباد شہر کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ مہاراشٹر کی سیاست میں گونج رہا ہے۔ اس سیاست سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ کانگریس کی جانب سے اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنے کے بعد مشورے دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن گزشتہ پانچ سالوں تک ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار میں شریک آج نام کے تبدیلی کی سیاست کررہے ہیں۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ مرکز اور ریاست دونوں جگہ پر یہ دونوں ایک ساتھ اقتدار میں شریک رہے۔ اس وقت انہیں نام کی تبدیلی کی سیاست کیوں نہیں سوجھی؟ یہ سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے اورنگ آباد میں برسرِاقتدار رہے ان دونوں کو دراصل اورنگ آباد کی ترقی پر بات کرنی چاہیے۔ اورنگ آباد کو ان سے یہی امید بھی ہے۔ لیکن میونسپل کارپوریشن میں اقتدار میں رہتے ہوئے انہوں نے صرف اور صرف عوام کو مایوس کیا ہے۔ اسی لیے کارپوریشن انتخابات کے عین موقع پر انہیں نام کی تبدیلی کی سیاست کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ یہ دنوں ہی پارٹیاں نام کی تبدیلی کی سیاست کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بہت دنوں تک نہیں چلے گا۔ اورنگ آباد کی عوام کے لیے نام کی تبدیلی سے زیادہ اس شہر کی ترقی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں ہماری ساتھی شیوسینا کو اپنے ووٹ کی فکر ستارہی ہے جس کی وجہ سے اس نے نام کی تبدیلی کا مقابلہ شروع کیا ہے۔ بی جے پی کے بارے میں بولنے میں منافقت کا مظاہرہ اس کی شرشت ہے۔ لہٰذا عوام ان کے قول وعمل کو ایک تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں۔
رہا سوال چھترپتی سمبھاجی مہاراج کے تئیں عقیدت کا تو چھترپتی شیواجی مہاراج وچھترپتی سمبھاجی مہاراج کے ناموں کا استعمال کرتے ہوئے سیاست کرنے والوں کو ہمیں چھترپتی سمبھاجی مہاراج کی عظمت سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم مراٹھی ہیں اور چھترپتی شیواجی مہاراج اور چھترپتی سمبھاجی مہاراج ہمارے لیے عظیم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے نظریے کو ووٹوں کے حصول کے لیے استعمال نہیں کرتے اور اگر کوئی ایسا کررہا ہے تو ہم اس کی سخت مخالفت کریں گے۔
بالاصاحب تھورات نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ان باتوں سے مہاراشٹر کی حکومت غیرمستحکم ہوگی تو وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے۔ ہم تینوں پارٹیوں نے انتہائی غور وفکر کے بعد مہاراشٹر کی عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت سازی کی ہے۔ یہ حکومت قائم کرتے ہوئے ہم تمام نے متفقہ طور پر کامن مینیمم پروگرام ترتیب دیا ہے۔ یہ پروگرام یعنی کہ مہاراشٹر کے کسانوں، محنت کشوں وغریبوں کے مفاد کا ہے۔ جذباتی سیاست کا اس میں نہ کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی جگہ ہے۔ ہماری حکومت مستحکم وسنجیدہ ہے۔ اس لیے کسی کے دل میں لڈو نہیں پھوٹنا چاہیے۔