MPCC Urdu News 17 Feb 2024

مودی اگر دوبارہ بر سر اقتدار آتے ہیں تو بہت سارے لوگ جیل جائیں گے
ہمارے لئے اس وقت الیکن جیتو ا پھر مرو جیسی صورت حال ہے ۔ رمیش ؍ کانگریس کے ریاستی تربیتی کیمپ میں مقررین کا اظہار خیال
لوناولا: یہاں ریاستی سطح کے کانگریس کے ۲؍ روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے قبل مودی حکومت پر سخت تنقیدیں کی گئیں ۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی امور کے انچارج رمیش چنیتھلا نے کہا کہ نریندر مودی اور بی جے پی ملک کی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔ اگر مودی لوک سبھا انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو بہت سے لوگوں کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ جمہوریت اور آئین کو نہیں مانتے۔ اب ہمیں الیکشن جیتنے کیلئے کرو یا مرو جیسی صروت حال کا سامناہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی کی طرف سے پنڈت جواہر لعل نہرو پر مسلسل تنقید کا مقصد گاندھی-نہرو نظریہ کو ختم کرنا ہےلیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔چنیتھلا نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے بہت کم وقت باقی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ الیکشن سائنسی طریقے سے لڑا جائے۔ بوتھ مینجمنٹ سب سے اہم ہے۔ انڈیا اگھاڑی کو اقتدار میں لانے کے لیے کام کرنا ہوگا اور ریاست سے ۴۸؍ سیٹیں جیتنا ہوں گی۔ اس مقصد کیلئے پارٹی میں نظم و ضبط بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ این ایس یو آئی، یوتھ کانگریس، فرنٹل سیل کی علاقائی سطح کی میٹنگ بھی ضروری ہے۔اس موقع پرکانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ لونا والا میں دو روزہ کیمپ کے دوران اچھی سوچ کے ساتھ نظریاتی بحث ہوئی۔ کانگریس پارٹی کو پورے خطے میں متحد ہونا چاہئے۔ تمام سیلز، فرنٹل آرگنائزیشنز کو مل کر پارٹی کے ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے۔ سب کو اس عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا کہ ہمیں لوک سبھا کی جنگ جیتنی ہے۔ اب ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ہمیں جنگی سطح پر کام کرنا ہے۔ پٹولے نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ بی جے پی کیسے جھوٹ بول رہی ہے۔ کیسے لوگ دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمارا عزم اگھاڑی کو جیتنا اور بی جے پی کو ہرانا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مہاراشٹر میں ماحول کانگریس اور اتحاد کے حق میں ہے اور ہم مہاراشٹر میںا نریندر مودی کے اقتدار کے دروازے بند کر سکتے ہیں۔،نانا پٹولے نے بی جے پی کو للکارتے ہوئے کہا کہ تم ہم میں طوفانوں کا ڈر پیدا کرو لیکن ہم طوفانوں سے لڑنے آئے ہیں۔اس موقع پر کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھوراٹ نے کہا کہ کانگریس پیچھے کی طرف نہیں جا رہی ہے۔ ہمارے پاس روایت ہے، فلسفہ ہے، فکر ہے، کام کانگریس حکومت نے کیا ہے۔ کانگریس نے ملک کے لیے قربانی دی ہے۔ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہم کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس لوک سبھا انتخابات کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔ الیکشن ایک محاذ کے طور پر لڑے جائیں۔ امیدوار کوئی بھی ہو، مقصد یہی ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی اقتدار میں نہ رہیں۔ بی جے پی حکومت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سیاست لین دین میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جب اقتدار آتا ہے تو کچھ لوک وہیں چلے جاتے ہیں۔ جب کانگریس دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ یہاں واپس آتے ہیں۔ یہ حرکت درست نہیں ہے۔ عوام ایسے تجارتی لیڈروں کو سبق سکھائیں۔ تھوراٹ نے کہا کہ راہل گاندھی کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ بھارت جوڑو یاترا مثبت توانائی پیدا کر رہی ہے۔ ہمیں بھی لوگوں کے درمیان جانا چاہیے۔ ہم نے سخت محنت کی ہے اور مہاوکاس اگھاڑی ریاست میں ۳۸؍ سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیت سکتی ہے۔اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی معیشت پانچویں سب سے بڑی ہے اور ہندوستان۲۰۴۷ء میں آزادی کے۱۰۰؍ سال مکمل ہونے پر ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا لیکن نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستانی معیشت کی رفتار کے مقابلے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران ترقی کی رفتار زیادہ تیزتھی۔ اگر اسی رفتار سے ترقی ہو ئی ہوتی تو آج ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن چکا ہوتا۔ یو پی اے کے دور میں معیشت میں۱۸۳؍ فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مودی کے دور میں یہ۱۰۳؍ فیصد پر رہا۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا نفاذ، اچانک لاک ڈاؤن، کسانوں کے خلاف جنگ اور بدعنوانی نے معیشت کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔چوہان نے کہا کہ یہ خواب دکھایا جا رہا ہے کہ۲۰۴۷ءمیں ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا لیکن اس کے لیے فی کس آمدنی بڑھنی چاہیے۔ جس ملک کی فی کس آمدنی زیادہ ہو وہ خوشحال ملک ہے۔ اس کے لیے فی کس آمدنی ۱۳؍ ہزار۸۴۵؍ ڈالر ہونی چاہیے۔ اس وقت ہندوستان کی فی کس آمدنی صرف ۲؍ ہزار ۸۰۰؍ڈالر ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں معیشت کا ۱۰؍ فیصد کی شرح حاصل کرنا ہوگی۔ جبکہ فی الحال مودی حکومت کے دوران معیشت کی شرح ۶؍ سے ۶ء۲۵؍ فیصد ہے۔کیمپ کے اختتام کے بعد نانا پٹولے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کے لیے بلائے گئے خصوصی اجلاس میں مراٹھا ریزرویشن قانون کو اس طرح پاس کرنا ہوگا کہاس کی عدالت میں بھی حیثیت برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ دیویندر فڑنویس نے ۲۰۱۸ء میں بھی ایسا ہی قانون بنایا تھا لیکن یہ عدالت میں قائم نہیں رہ سکا۔ حکومت اب جس بل پر زور دے رہی ہے اس پر مقننہ میں تمام مسائل پر بحث ہونی چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مراٹھا برادری اور جرانگے پاٹل کو دھوکہ دیا ہے۔ اب دوبارا اسے دھوکا نہیں دیا جانا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading