جھوٹی مودی حکومت کی لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ

کیا مودی کی شبیہ لوگوں کی زندگیوں سے زیادہ قیمتی ہے؟ ناناپٹولے

ممبئی: کورونا کی وبا پر قابوپانے میں مرکزکی مودی حکومت کی مکمل طو رپر ناکامی متعددبارواضح ہوچکی ہے۔ کورونا ویکسی نیشن کا کوئی ٹھوس پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مہم فلاپ ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ 13؍مئی کو حکومت نے کووی شیلڈکے دوڈوز کے درمیان کا وقفہ 6سے 8ہفتوں سے بڑھاکر 12؍سے 16؍ہفتے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ماہرین کے مشوروں کی بنیاد پر کیا گیا ہے، لیکن اس شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوئی شفارش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس کاکوئی سائنسی بنیاد ہے۔ پھر یہ فیصلہ مودی حکومت نے کس کے کہنے پر وکس بنیاد پر لیا ہے؟ اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

نانا پٹولے نے کہا کہ جن سائنسدانوں کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت نے دوڈوز کے درمیان کے وقفے کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اس کا سراسر غلط ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ دوڈوز کے مابین وقفے کو بڑھانے کا فیصلہ صرف کووی شیلڈ ویکسین کے بارے میں ہی کیوں کیا گیا؟ کیا یہ جھوٹ اس لیے گڑھا گیا ہے کہ کہ مودی کی شبیہ خراب نہ ہو کیونکہ ویکسین کی قلت کی وجہ سے ویکسی نیشن کے مراکز بند ہورہے ہیں؟کیا یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ ویکسی نین کی مہم میں مودی حکومت جو ناکام ہوئی ہے، اس پر پردہ ڈالاجاسکے؟ مودی حکومت کی نااہلی اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات اس لئے بھی پیدا ہوتے ہیں کیونکہ مودی حکومت کے دور میں موت سستی ہوچکی ہے اور زندگی مہنگی ہوگئی ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین سے کورونا کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، لیکن مودی حکومت کے پاس ویکسی نیشن کی کوئی قومی پالیسی نہیں ہے۔ویکسین کی مطلوبہ مقدار ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے کئے بغیر ہی پہلے 45سال سے زائد اور پھر 18؍سال سے زائد لوگوں کو ویکسین دینے کے فیصلے کا اعلان کردیا گیا۔لیکن ریاستی حکومتوں کو ویکسین کی ضروری مقدار تک فراہم نہیں کی گئی۔صرف دو کمپنیوں پرمنحصر ہوجانے کی وجہ سے ویکسی نیشن مہم ناکام ہو گئی۔ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ وہ گھر گھر جاکر لوگوں کو ویکسین دے۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی وممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی تمام لوگوں کو مفت ویکسین دینے کے لئے مودی حکومت کو مکتوب لکھتے ہوئے مشورہ دیا تھا۔ ان کے مشوروں پر مودی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ کم ازکم اب تو ان کے مشوروں پر غور کرتے ہوئے وہ لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کرے۔