MPCC Urdu News 15 May 21

ملک کو شمشان بھومی میں تبدیل کرنے والے مودی کو فڈنویس خط لکھنے کی جرأت کریں گے؟: ناناپٹولے

فڈنویس کی سونیا گاندھی کو خط لکھ کر مودی کے گناہ پرپردہ ڈالنے کی کوشش

ممبئی: مودی حکومت کورونا بحران سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے کیونکہ اس نے اس قومی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جناب راہول گاندھی نے 12 فروری 2020 کو ہی کورونا کی سونامی آنے کا انتباہ دیا تھا،مگر مودی سے لے کر دیویندر فڈنویس تک کے بی جے پی کے تمام لیڈروں نے یہ کہتے ہوئے انہیں نظرانداز کیا کہ ہم راہل گاندھی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں روزانہ 4 لاکھ سے زیادہ کورونا مریض اور 4 ہزار سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے۔ سونیا گاندھی کو خط لکھ کر دیوندر فوڈنویس ملک کو شمشان میں تبدیل کرنے والے نریندر مودی کے گناہوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان کے اندرذرا بھی اخلاقی جرأت ہے تو وہ ملک یا صرف ریاست کی ہی صورت حال پر مودی کوخط لکھنے کا حوصلہ دکھائیں۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

دیویندر فڈنویس پر تنقید کرتے ہوئے ناناپٹولے نے مزید کہا کہ کورونا کی قومی آفت کی حیثیت کے باوجود مودی سرکار نے اس کی روک تھام کے تمام اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے کر ریاستوں کو بے سہاراچھوڑ دیا۔ کورونا کی صورت حال سے نمٹنے میں مودی کے پاس کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔اب جب کہ صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے تو بی جے پی کے لیڈران مودی کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی میڈیا یہ دکھارہی ہے کہ وزیر اعظم کے حلقہئ انتخاب وارانسی میں آخری رسومات کے لئے جگہ ہی نہیں ہے۔ مودی کی من مانی کی وجہ سے ملک کی جو بے عزتی ہوئی ہے اتنی بے عزتی گزشتہ 70سالوں میں کبھی نہیں ہوئی۔ پٹولے نے کہا کہ دیوندرفڈنویس اس بابت جھوٹ بول رہے ہیں کہ مودی سرکار نے ریاستوں کو بھرپور ریمیڈیسیورانجکشن، آکسیجن اور دیگر طبی امداد فراہم کی ہے۔ اس کے جھوٹ ہونے پر نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ ملک کی متعداداعلیٰ عدالتوں نے بھی مہر لگادی ہے۔ آکسیجن کی فراہمی کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مودی کی نااہلی کوثابت کردیا ہے۔ پی ایم کیئر فنڈ سے آکسیجن پلانٹ لگانے کا صرف اعلان کیا گیا مگر درحقیقت مرکز نے آج تک مہاراشٹرمیں ایک بھی آکسیجن پلانٹ نہیں لگایا۔ ریاست کو یومیہ 1750میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے جس میں سے 1200میٹرک ٹن مہاراشٹر میں ہی تیار کی جاتی ہے۔ اس میں مودی حکومت کا کوئی بھی تعاون نہیں ہے۔سچائی یہ ہے کہ جو550میٹرک ٹن اضافی آکسیجن کی ضرورت تھی وہ بھی مودی سرکار فراہم نہیں کرسکی۔

پٹولے نے کہا کہ ملک کی عوام کوجب ریمیڈیسیور کی اشد ضرورت ہے تو بی جے پی کے لیڈران اس کی کالابازاری کرنے میں مصروف ہیں۔ خود دیویندر فڈنویس نے بلیک مارکیٹنگ کرنے والی ایک کمپنی کے لوگوں کو بچانے کے لیے نصف رات کو پولیس اسٹیشن میں جاکر ہنگامہ کیا۔ ریمیڈیسیور کی ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں احمد نگر کے بی جے پی ایم پی کے خلاف ہائی کورٹ نے کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ پی ایم کیئر فنڈ سے دیے گئے وینٹی لیٹرمیں بھی بدعنوانی ہوئی اور ان میں سے بیشتر وینٹی لیٹر ناقص درجے کے ہیں جو بغیر استعمال کے دھول کھارہے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مہاراشٹرا حکومت شفافیت کے ساتھ اعدادوشماربتارہی ہے۔ دیوندر فڈنویس اترپردیش، گجرات، مدھیہ پردیش و بہار جیسے بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں کتنے کورونا ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں؟ کتنے مریضوں کو آکسیجن ملتا ہے؟ کورونا سے کتنی اموات ہو رہی ہیں؟اس بارے میں بی جے پی کے صدر کو خط لکھ کر اعداد وشمار منگوائیں۔ گجرات میں 71 دن میں 1 لاکھ 23 ہزار 871 اموات ہوئیں،مگر حکومت صرف 4218 اموات بتارہی ہے۔اترپردیش، کرناٹک وبہار میں کورونا کی اموت کو چھپانے کے لیے جے سی بی کے ذریعے نہایت بے رحمی کے ساتھ لاشوں کو دفن کردیا جارہا ہے تو ہزاروں لاشیں گنگاندی میں تیر رہی ہیں۔ یہ دردانگیز مناظر دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

پٹولے نے کہا کہ جب دنیا کوورنا کے ویکسی نیشن میں مصروف تھی، مودی انتخابات میں مصروف رہے۔ مودی سرکار کے پاس ویکسی نیشن کی کوئی قومی پالیسی نہیں ہے۔ ویکسین کی قلت کی وجہ سے ویکسی نیشن سینٹر بند ہیں۔ویکسی نیشن کے لیے 35ہزار کروڑ روپئے مختص کیے جانے کا اعلان کرنے کے باوجود مرکز کو 150روپئے، ریاستوں کو 400روپئے اور پرائیویٹ میں 600روپئے میں کیوں خریدنا پڑ رہا ہے؟ اتنی مشکلات اوررکاوٹوں کے باوجود مہاراشٹر نے ابھی تک ایک کروڑ 95لاکھ 31ہزار لوگوں کو ویکسین دیا ہے جو ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹر کی یومیہ 6لاکھ لوگوں کو ویکسین دینے کی صلاحیت ہے۔ ویکسین کا نقصان بھی مہاراشٹر میں ملک کی بہ نسبت سب سے کم ہے۔ ممبئی کے کنٹرول کے ماڈل کی نہ صرف نریندرمودی و پلاننگ کمیشن بلکہ دنیا بھر نے ستائش کی ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت نے رجسٹرڈ رکشہ چلانے والوں، مزدوروں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کوفی کس 1500روپئے کی مدد کے لیے 5476 کروڑ روپئے کا پیکج دیا ہے۔ کورونا کے دوران غریبوں ومجبوروں کو مفت میں شیو بھوجن تھالی دی جارہی ہے۔ تقریبا 7 کروڑ مستحقین کوفی کس 3 کلو گندم اور 2 کلو چاول مفت فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ تمام امداد مستحقین تک پہنچ چکی ہیں۔اب مودی سرکار کے اعلان کردہ 20 لاکھ کروڑ روپے کے کھوکھلے پیکیج کا کیا ہوا؟ یہ بات فڈنویس کو بتانی چاہئے۔دیوندرفڈنویس کو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھنے کے بجائے نمامی گنگا کو شوامی گنگا بنانے والے اترپردیش کے وزیراعلیٰ،گوواکے وزیراعلیٰ کو جہاں لوگ آکسیجن کی قلت کی وجہ سے تڑ پ تڑپ کر اپنی جانیں دے رہے ہیں،گجرات کے وزیراعلیٰ کو جو لاکھوں لوگوں کی اموات کے اعداد وشمار کو چھپارہے ہیں اور ان سب کے نگراں نریندرمودی کو جن کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں کورونا کی صورت حال سنگین ہوئی ہے، خطوط لکھنا چاہیے تھا۔پٹولے نے کہا کہ جب نرسمہاراؤ وزیراعظم تھے تو انہوں نے یو این او میں بھارت کی نمائندگی کا موقع اتل بہاری واجپئی کو دیا تھا۔ گجرات میں زلزلے کے بعد اٹل بہاری واجپئی نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ذمہ داری شردپوار کے سپرد کی تھی۔ قومی آفات کے دوران سبھی کو ساتھ میں لے کر کام کرنے کی ہمارے ملک کی زریں روایت رہی ہے،مگر اس روایت کو قدموں تلے روندتے ہوئے دیوندرفڈنویس جو گھٹیا سیاست کررہے ہیں وہ کس حد تک مناسب ہے؟ فڈنویس کو اس پرخود اپنا احتساب کرنا چاہیے۔