MPCC Urdu News 15 December 25

حکمراں پارٹیوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں منشیات کے پیسے کی یلغار

’اڑتا ہوا مہاراشٹر‘ بنانے کی سازش: ہرش وردھن سپکال

منشیات فیکٹری معاملے میں گرفتار 43 میں سے 40 لوگ کِس کے دباؤ میں چھوڑے گئے؟

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی قیادت میں مہاراشٹر مسلسل بدحالی کی طرف جا رہا ہے اور بدعنوانی کے روایتی ذرائع ناکافی ہونے کے بعد اب حکمراں طبقہ منشیات کے کاروبار کو سیاسی مالیات کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمینوں کی فروخت، ٹینڈروں میں کمیشن اور مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں میں بدعنوانی کے بعد اب ڈرگس کے پیسے کے ذریعے بلدیاتی انتخابات میں ’اڑتا ہوا مہاراشٹر‘ بنانے کی خطرناک سازش کی جا رہی ہے۔

تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ستارہ ضلع میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے آبائی گاؤں دارے کے قریب منشیات تیار کرنے کا کارخانہ چلائے جانے کا انکشاف انتہائی سنگین ہے۔ اس معاملے میں دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کے قریبی افراد کے نام سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے کچھ ملزمان کو حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا جبکہ اصل سرغنہ کو بچانے کی کوششیں کی گئیں۔

سپکال کے مطابق مغربی بنگال اور بنگلہ دیش سے لائے گئے مزدور انتہائی دور دراز علاقے میں منشیات تیار کر رہے تھے، جن کی رہائش، خوراک اور نقل و حرکت سب منظم طریقے سے چلائی جا رہی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے دشوار گزار علاقے میں ایک ساتھ ہوٹل اور منشیات کا کارخانہ کیسے قائم ہو گیا اور کیا مقامی پولیس کو اس کی کوئی اطلاع نہیں تھی یا جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے چھاپے سے پہلے ستارہ پولیس کی لاعلمی خود کئی شکوک کو جنم دیتی ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے یہ بھی الزام لگایا کہ جن بنگالی اور بنگلہ دیشی مزدوروں کو گرفتار کیا گیا، ان میں سے بیشتر کو دباؤ ڈال کر چھوڑ دیا گیا جبکہ تقریباً چالیس دیگر افراد پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ ان افراد کو فرار ہونے میں کس نے مدد دی اور کن کے کہنے پر پولیس نے کارروائی روک دی۔ اسی طرح انہوں نے وشال مورے کے سیاسی روابط پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ دو کلو ایم ڈی منشیات کے ساتھ گرفتار شخص کے تعلقات حکمراں سیاسی گروپوں سے سامنے آنا تشویش ناک ہے۔

سپکال نے الزام لگایا کہ تیجس ہوٹل، جہاں سے کارخانے کے مزدوروں کو کھانا فراہم کیا جاتا تھا، اس پورے نیٹ ورک کا اہم حصہ تھا، لیکن اس ہوٹل کی نہ تو مناسب تلاشی لی گئی اور نہ ہی شفاف طریقے سے پنچ نامہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس معاملے میں شامل بااثر افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے اسمبلی میں دیے گئے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’منشیات بنانا آسان ہے‘۔ سپکال کے مطابق اس طرح کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والے اس زہریلے کاروبار کو روکنے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ ایک طرف بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف بیانات دیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انہی سے منشیات کے کارخانے چلائے جا رہے ہیں، جو کھلا تضاد ہے۔

الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ انتخابی فہرستوں، دوہرے ووٹروں اور وارڈ بندی سے متعلق ٹھوس اعتراضات کے باوجود کمیشن کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ستارہ منشیات فیکٹری معاملے پر مکمل اور شفاف انکشاف کرے، بصورت دیگر عوام میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ منشیات کے کاروبار کو سیاسی تحفظ حاصل ہے۔

MPCC Urdu News 15 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading