حکومت کو اپنا فیصلہ کسی لیڈرکے گھر نہیں بلکہ کابینہ میں لینا چاہیے: اتل لونڈھے
ٹول بوتھوں پر سرکاری کیمروں کے ساتھ ایم این ایس کے کیمرے کیوں؟
ممبئی:ریاست میں ٹول کے معاملے پر ایم این ایس کے احتجاج کرتے ہی ریاستی حکومت کا راج ٹھاکرے کے گھرجانا غیرآئینی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شندے-فڑنویس-پوار حکومت نے اپنی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ حکومت کا راج ٹھاکرے کے گھرجانے کا مطلب متوازی حکومت چلانے جیسا ہے۔ ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے اس معاملے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن پارٹی کوئی عوامی مسئلہ حکومت کے سامنے رکھتی ہے تو حکومت کو اس پر کابینہ میں فیصلہ لینا چاہئے، نہ کہ کسی کے گھر وزیروں اور افسروں کو بھیج کرفیصلہ کرنا چاہئے۔
اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ چونکہ ریاست میں ای ڈی اے حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے، اس لیے شندے حکومت کے وزیر دادا بھوسے نے راج ٹھاکرے کے گھر جا کر پریس کانفرنس کی اور پیغام دیا کہ کوئی بھی آکر ہمارے ساتھ متوازی حکومت چلا سکتاہے۔ بھوسے نے اپنے بیان سے خود اعتراف کرلیا ہے کہ حکومت نے بدعنوانی کی ہے۔ ٹول بوتھوں پر سرکاری کیمروں کے ساتھ ایم این ایس بھی پنے کیمرے بھی لگائے گی، جو آئین کے خلاف ہے۔ سرکاری کیمروں کے ساتھ کسی پارٹی کے ذریعے کیمرے لگانے کا آخر کیا مطلب ہے؟
اتل لونڈھے نے کہا کہ ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے نے جمعرات کی شام وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ساتھ ٹول کے معاملے پر میٹنگ کی اور ان کے حکم کے مطابق روڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے کابینی وزیر دادا بھوسے جمعہ کی صبح راج ٹھاکرے کے گھر پہنچے۔ راج ٹھاکرے کی رہائش گاہ پر منعقدہ میٹنگ میں وزیر بھوسے اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔ آج حکومت ٹول ٹیکس کے معاملے پر فوری طور پر متحرک ہو گئی لیکن بیروزگاری، کسانوں کے مسائل اور مہنگائی کے معاملے پر ای ڈی حکومت کبھی بھی اتنی تیز اورسنجیدہ نہیں دکھائی دی۔ لیکن راج ٹھاکرے کے مطالبے پر حکومت ایم این ایس کے دروازے پرپہنچ گئی۔ شنڈے حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ’مہاراشٹر حکومت آپ کے دروازے پر‘نامی مہم شروع کی ہے لیکن یہاں تو بدعنوانی کرنے والی حکومت لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ لونڈھے نے کہا کہ لوگوں کو حکومت پر اعتماد ہونا چاہیے لیکن یہ حکومت پوری طرح اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
