ناناپٹولے کے بیان کو توڑ مروڑ کر غلط فہمی پیدا کوشش کی جارہی ہے

اسمبلی اسپیکر کاعہدہ کانگریس کے پاس، اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے

بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لئے ریاستی کانگریس کی جائزہ میٹنگ کا انعقاد

ممبئی: اوبی سی برادری کا سیاسی ریزرویشن رد ہونے کی وجہ قرارپانے والا ڈیٹا دینے میں مرکزی حکومت قصداًٹال مٹول کررہی ہے۔ جب یہ ڈیٹا مرکزی حکومت کی اسکیموں کو لاگو کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جارہا ہے؟ یہ سوال کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کی جانب سے ریاست کے نگراں ایچ کے پاٹل نے آج یہ مطالبہ کیا ہے کہ اوبی سی طبقے کی فلاح وبہبود کے لئے وہ ڈیٹا جس شکل میں بھی محفوظ ہے، مرکزی حکومت اسے فوری طور پر جاری کرے۔

آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے پیشِ نظر ریاستی کانگریس کے دفتر تلک بھون دادر میں کانگریس کے انچارج ایچ کے پاٹل کی موجودگی میں اورریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے کی صدارت میں آج پارٹی کے اہم لیڈران کی میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعدضلعی صدور، ممبرانِ اسمبلی وعہدیداران کی آن لائن میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوہان، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، قانون سازکونسل کے سابق ڈپٹی اسپیکر مانک راؤ ٹھاکرے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری وامشی ریڈی، بی ایم سندیپ، سمپت کمار، آشیش دووا، سونل پٹیل، ریاستی کانگریس کے کارگزارصدر عارف نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، بسوراج پاٹل، شیواجی راؤ موگھے، ایم ایل اے پرینتی شندے، ایم ایل اے کنال پاٹل، ریاستی کانگریس کے نائب صدرموہن جوشی، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے موجود تھے۔

میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاست کے 24؍ضلع پریشد،144؍میونسپلٹی اور 22میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات کی تیاریوں اور حکمت عملی طئے کرنے کے لئے ہم نے یہ میٹنگ منعقدکی تھی۔ چونکہ انتخابات ۶ماہ آگے بڑھادیئے گئے ہیں اس لئے ہمیں تیاری کے لئے وقت ملا ہے۔ کانگریس پارٹی ان انتخابات کی تیاری کررہی ہے۔ کچھ ضلع کمیٹیوں کی ازسرِ نوتشکیل کی ضرورت ہے، جبکہ اوبی سی طبقے کا سیاسی ریزرویشن رد ہوجانے کی وجہ سے پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ پر بھی اس میٹنگ میں غور وفکر کیا گیا۔

ناناپٹولے کی جانب سے ان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے جانے کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاستی صدرناناپٹولے کے بیان کو توڑ مروڑ کر میڈیا میں دکھائے جانے کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی۔ انہیں جو کہنا تھا، اس کی انہوں نے وضاحت کردی ہے اس لئے اب یہ موضوع ختم ہوگیا ہے۔اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے پر ایچ کے پاٹل نے کہا کہ اس معاملے میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق اسمبلی اسپیکر کا عہدہ کانگریس کے ہی پاس ہی رہے گا۔ مہاوکاس اگھاڑی میں شامل این سی پی وشیوسینا نے بھی یہ واضح کردیا ہے۔حال ہی میں منعقد ہونے والے اسمبلی کے مانسون اجلاس میں کووڈ کی وجہ سے اسپیکر کے عہدے کا انتخاب نہیں ہوسکا، لیکن یہ انتخاب جلدہی ہوگا۔