بی جے پی کی جمہوریت ختم کرنے کی سازش، راہل گاندھی کی قیادت میں جمہوریت بچانے کے لیے کانگریس کی جدوجہد: رمیش چنیتھلا
دیویندر فڈنویس وزیر اعلیٰ ہیں یا الیکشن کمشنر؟ سوال کمیشن سے کیا جائے تو وہ جواب کیوں دیتے ہیں؟
بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کریں، ریاست میں کانگریس کو نمبر ایک پارٹی بنائیں: ہرش وردھن سپکال
کانگریس کے نو نامزد عہدیداران کی دو روزہ ورکشاپ کا اختتام
پونے/ممبئی: بی جے پی ملک میں جمہوریت اور آئین کو ختم کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی مدد سے ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر، ہریانہ اور کرناٹک میں ووٹ چوری کا انکشاف راہل گاندھی نے کیا ہے۔ جمہوریت اور آئین آج خطرے میں ہیں اور انہیں بچانے کے لیے راہل گاندھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ لڑائی بڑی اور مشکل ہے لیکن ہم سب راہل گاندھی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہ کر یہ جنگ جیتیں گے۔ یہ بات مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنیتھلا نے کہی ہے۔
کانگریس کے نو نامزد عہدیداران کی دو روزہ ورکشاپ کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر انچارج رمیش چنیتھلا، ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں کانگریس پارٹی کے لیڈر وجے وڈٹیوار، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر ستیج عرف بَنٹی پاٹل، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بالا صاحب تھورات، سابق وزیر نسیم خان، سابق وزراء ڈاکٹر نیتن راؤت، یشومتی ٹھاکر، امیت دیشمکھ، ڈاکٹر وِشو جیت کدم، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے صدر پون کھیڑا، اے آئی سی سی کے سیکریٹری بی ایم سندیپ، یو بی وینکٹیش، رام کشور اوجھا، پرتھوی راج ساٹھے، سنجے دت، رویندر دلوی، نائب صدر تنظیم و انتظام ایڈووکیٹ گنیش پاٹل، سینئر ترجمان اتل لونڈھے، خواتین کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، سیوا دل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، یوتھ کانگریس کے صدر شیو راج مورے سمیت دیگر لیڈران موجود تھے۔
اس ورکشاپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا نے مزید کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں، امریکہ بھارت کو دھمکی دے رہا ہے لیکن وزیر اعظم اس پر کچھ نہیں بولتے۔ اندرا گاندھی جب وزیر اعظم تھیں تو امریکہ کیا، کوئی بھی ملک بھارت کو دھمکی دینے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ راہل گاندھی جب چین پر کچھ بولتے ہیں تو سپریم کورٹ کے جج اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ کیا اب عدالت یہ طے کرے گی کہ کون محب وطن ہے؟ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت سب سے زیادہ بدعنوان ہے۔ وزیر زراعت اسمبلی میں تاش کھیلتا ہے اور وزیر مملکت برائے داخلہ ڈانس بار چلاتا ہے۔ دیویندر فڈنویس پر طنز کرتے ہوئے چنیتھلا نے کہا کہ راہل گاندھی نے سوال الیکشن کمیشن سے کیا تھا تو جواب کمیشن کو دینا چاہیے، لیکن فڈنویس جواب کیوں دے رہے ہیں؟ کیا فڈنویس ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں یا الیکشن کمشنر؟
اُدھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے اتحاد پر بات کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا نے کہا کہ ان دونوں کے اتحاد پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اگر دونوں بھائی ایک ساتھ آ رہے ہیں تو یہ ان کا خاندانی مسئلہ ہے۔ راج ٹھاکرے ابھی مہاوکاس اگھاڑی میں شامل نہیں ہیں۔ جب دونوں بھائی فیصلہ کر لیں گے تو کانگریس بھی بات چیت کے بعد فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ورکنگ کمیٹی میں 50 فیصد سے زیادہ نئے چہرے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے کا کام کریں اور جمہوریت بچانے کی لڑائی میں سب کو شامل ہونا چاہیے۔ ہر ضلع میں مشعل مارچ نکالیں اور دستخطی مہم چلا کر راہل گاندھی کی جدوجہد کو تقویت دیں۔
ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس کا ہر کارکن اور عہدیدار ہی ریاستی صدر ہے۔ جو لوگ پارٹی چھوڑ گئے وہ کوے تھے اور جو باقی ہیں وہ ماولے ہیں، اور میں آپ کے ساتھ ہوں۔ دو روزہ ورکشاپ ختم ہو گئی ہے، اب عملی کام کا آغاز کریں۔ اب صرف عمل، عمل اور عمل پر زور دیں۔ بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں، ان انتخابات میں کامیابی حاصل کریں اور کانگریس پارٹی کو ریاست میں نمبر ایک پارٹی بنائیں۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے بیانیہ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت اور پارٹی کام نہیں کرتی اسے بیانیہ اور تاثر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کانگریس کو اس کی ضرورت نہیں۔ بی جے پی نے صرف ایک جھوٹا ماحول بنانے کا کام کیا ہے۔ کانگریس کا راستہ سچ کا ہے، یہ مشکل ہے لیکن کانگریس ابتدا سے اسی راستے پر چلتی آئی ہے اور آئندہ بھی اسی پر چلے گی۔ آزادی کے بعد پنڈت نہرو نے جمہوریت اور آئین کا راستہ اختیار کیا اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کیا۔ اسی راستے پر آج راہل گاندھی بھی چل رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی ایک شاندار تاریخ ہے، 54 سالہ اقتدار میں عوام کی بھرپور خدمت کی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا، یہ پیغام عوام تک پہنچائیں۔
اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر وجے وڈٹیوار نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی اتحاد کی حکومت نے 10 لاکھ کروڑ کا قرضہ کر رکھا ہے اور 1 لاکھ 78 کروڑ روپے کی ادائیگیاں باقی ہیں۔ مہاراشٹر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ چھ ماہ سے سنجے گاندھی نِرادھار یوجنا کے پیسے نہیں مل رہے۔ اساتذہ کی بھرتی میں بڑا گھوٹالا ہوا ہے جو ’ویاپم‘ اسکینڈل سے بھی بڑا ہے۔ نئے عہدیداران پارٹی کا پرچم تھام کر کام کریں، سب آپ کے ساتھ ہیں۔ سابق وزیر امیت دیشمکھ نے کہا کہ کانگریس ایک نظریاتی جماعت ہے۔ ریاست میں آج بھی کانگریس کی بڑی طاقت ہے، 14 ایم پی ہیں، ایم ایل اے کی تعداد کم ہے مگر آواز کمزور نہیں۔ کانگریس کا کارکن لڑاکا ہے، جوش و خروش سے کام کریں اور پارٹی کو اس کا سابقہ وقار واپس دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانا ہے۔
MPCC Urdu News 12 August 25.docx