پوئی کے جئے بھیم نگر میں دلت برادری کے مکانات مسمار کرنے والے افسران اور بلڈر کے خلاف مقدمات درج

سابق وزیر نسیم خان کی جدوجہد کامیاب، 650 خاندانوں کو انصاف ملنے کی امید

ممبئی: پوئی کے جئے بھیم نگر میں تقریباً 650 دلت خاندانوں کے خلاف 6 جون 2024 کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے افسران، پولیس، بلڈر نرنجن ہیرانندانی اور مقامی ایم ایل اے نے ملی بھگت کرکے غیر قانونی کارروائی کی تھی۔ پولیس نے گھروں میں گھس کر بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگوں کو زدوکوب کیا تھا اور زبردستی بلڈوزر چلا کر ان کے گھروں کو مسمار کردیا تھا، جس کی وجہ سے سینکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ اس معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کے حکم پر بی ایم سی کے افسران، پولیس اور بلڈر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

جئے بھیم نگر میں گزشتہ 25 سے 30 سالوں سے تقریباً 650 دلت خاندان مقیم تھے، جن کے بچے آس پاس کے اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھے۔ لیکن برسات کے دوران بی ایم سی ایس ڈویژن کے افسران، پوئی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر جیتندر سونونے سمیت سیکڑوں پولیس اہلکار اور ڈیولپر ہیرانندانی و مقامی ایم ایل اے نے آپسی ملی بھگت سے 650 خاندانوں کو بے گھر کردیا۔ اس کے بعد بلڈر نرنجن ہیرانندانی نے اپنے غنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے راتوں رات پورے علاقے کو چاروں طرف سے شیڈ لگا کر گھیر لیا اور 6 ایکڑ (24000 مربع میٹر) زمین پر قبضہ کرلیا۔ بے گھر ہونے والے یہ 650 پسماندہ خاندان اب بھی فٹ پاتھ اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سابق وزیر اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر محمد عارف نسیم خان نے متاثرہ رہائشیوں کو لے کر اس وقت کے گورنر رمیش بیس اور اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر سے ملاقات کی تھی اور واقعے کی مکمل تفصیلات پیش کی تھیں۔ ساتھ ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو بھی تحریری طور پر اس معاملے کی اطلاع دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک متاثرہ شہری نے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے جوائنٹ پولیس کمشنر (جرائم) اور ایڈیشنل پولیس کمشنر (جرائم) کی قیادت میں ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) تشکیل دینے کا حکم دیا اور تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ ایس آئی ٹی نے باریک بینی سے تفتیش کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، جس میں غیر قانونی کارروائی ثابت ہوئی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے ایس آئی ٹی کو تمام ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد شکایت کنندہ نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد ممبئی ہائی کورٹ کے حکم پر بی ایم سی کے افسران، پولیس اور بلڈر نرنجن ہیرانندانی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ 10 فروری 2025 کو کرائم برانچ کے ذریعے ایف آئی آر نمبر0138/2025 درج کی گئی، جس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی متعدد سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ان دفعات میں دفعہ 323، دفعہ 324، دفعہ 143، دفعہ 504 اور دفعہ 34 شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں بی ایم سی کے ڈپٹی کمشنر برادر، اسسٹنٹ کمشنر کسگیکر، بی ایم سی افسران امیش باگڑے، پنکج، پولیس ڈپٹی کمشنر منگیش شندے، پوئی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر سونونے اور ہیرانندانی بلڈرز کے سنجے پانڈے، ارجن سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

Jaibhim Nagar FIR Copy.pdf

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading