MPCC Urdu News 10 Jan 24

ایم ایل اے کی نااہلیت کا فیصلے سے مہاراشٹر کی جمہوری روایت داغدار : نانا پٹولے

یہ فیصلہ آئین اور 10ویں شیڈول کو قدموں تلے روندنے والا ہے

اسمبلی اسپیکر نے اپنے فیصلے سے سپریم کورٹ کی ہدایت کو نظر انداز کردیا

نارویکر نے جو فیصلہ دیا ہے وہ دہلی میں گجرات لابی کا لکھا ہوا مسودہ معلوم ہوتا ہے

ممبئی:شیوسینا ایم ایل اے کی نااہلی کے معاملے میں اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا دیا گیا فیصلہ مہاراشٹر اور ملک کی سیاست کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ اسمبلی اسپیکر کا عہدہ غیرجانبدارانہ ہوتا ہے لیکن آج کا فیصلہ دیکھ کر یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ غیرجانبدارانہ نہیں ہے۔اس فیصلے میں آئین کی وور10ویں شیڈول کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔اس معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ایسا لگات ہے کہ راہل نارویکر نے جو فیصلہ دیا ہے وہ دہلی کے گجرات لابی کا لکھا ہواڈرافٹ ہے۔ یہ فیصلہ مہاراشٹر کی جمہوری روایت کو داغدار کرنے والا ہے۔ ایم ایل اے اہلیت کے معاملے میں اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کے دیئے گیے فیصلے پر یہ ردعمل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے ظاہر کیا ہے۔ وہ پارٹی دفتر تلک بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ ایم ایل اے کی نااہلی کا معاملہ عدالت میں 9 ماہ تک چلا اور مئی 2023 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد، قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نے فیصلہ دینے میں مزید 7 مہینے لے لیا۔فیصلہ دیتے ہوئے نارویکر نے 1999 میں شیوسینا کے آئین کو قبول کیا،جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیوسینا ٹھاکرے کی ہے ، اس کے باوجود انہیں2018کے شیوسینا کاقانون منظر نہیں ہے، جس کی بنیاد پرانہوں نے یہ غیرمنطقی فیصلہ فیصلہ دیا کہ اصل شیوسینا ایکناتھ شندے کی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ شیوسینامیں تقسیم سے قبل ادھو ٹھاکرے پارٹی کے لیڈر تھے اور سپریم کورٹ نے ہی یہ واضح کیا تھا کہ سنیل پربھو ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کے وہپ ہیں۔اس کے باوجود اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر نے سنیل پربھو کے وہپ کے عہدے کو نامنظور کرتے ہائے ایکناتھ شندے گروپ کے بھرت گوگاؤلے کو وہپ کے طور پرتسلیم کیا ۔ ناناپٹولے نے کہا کہ ایم ایل اے وایم پی اصل پارٹی نہیں ہوتے ہیںلیکن راہل نارویکر نے ایم ایل اے کی اکثریت کی بنیاد پریہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اصل شیو سینا ایکناتھ شندے کی ہے۔ ادھو ٹھاکرے گروپ اور ایکناتھ شندے گروپ کے ایک بھی ایم ایل اے کو نااہل نہیں کیا گیا۔یہ نتیجہ واضح طور پر جانبدار معلوم ہوتاہے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے صرف وقت گزاراگیا۔ سپیریم کورٹ کے ذریعے دوتین بار کی پھٹکار کے بعد جاکر اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پٹولے نے کہ اکہ کانگریس کو عدلیہ پر بھروسہ ہے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور سپریم کورٹ جومناسب ہوگا فیصلہ دے گی۔

ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی نے ملک جو رواج شروع کیا ہے وہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو آئین ودستور کے مطابق تشکیل پائی سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔بی جے پی یہی چاہتی ہے تاکہ ملک میں کوئی اپوزیشن پارٹی نہ رہے۔ اس لیے کانگریس جمہوریت اور آئین کو بچانے کی جنگ لڑ رہی ہے، کیونکہ کانگریس کا موقف جمہوریت اور آئین کا تحفظ ہے۔

فیصلے کا ایم وی اے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

شیو سینا تقسیم کیس کے اس فیصلے کا مہا وکاس اگھاڑی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے برعکس وہ مزید مضبوط ہوگی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے اور عوام بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ اگر فیصلہ سنانے والا جج ملزم سے مل رہا ہے تو یہ نہایت سنگین بات ہے ۔ ودھان سبھا اسپیکر راہل نارویکر نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کی تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس میں کوئی ملی بھگت تھی؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading