آر ایس ایس کے 100 برسوں کے سیاہ کارناموں کا کھلا احتجاج اور مذمت: ہرش وردھن سپکال
شیشوپال کی طرح آر ایس ایس کی بھی صدی مکمل، منو سمرتی اور بنچ آف تھاٹ کو نذرِ آتش کرکے سنگھ کو تحلیل کیا جائے
ریاست میں قحطِ باراں کا اعلان کرکے فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی فوری امداد دی جائے اور دیوالی سے پہلے کسانوں کا قرض معاف کیا جائے
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بھارت کا آئین تمام ذات و مذاہب اور خواتین کو شخصی آزادی، فکر کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے اور تمام میدانوں کے دروازے کھولتا ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت میں آئین کو روند ڈالا گیا ہے۔ غریب کو مزید غریب اور امیر کو اور زیادہ امیر بنانے کا نظام بی جے پی نے بنایا ہے اور اس کی جڑ آر ایس ایس ہے۔ بہوجن سماج کا صرف استحصال کیا جا رہا ہے، چند ہاتھوں میں مذہبی اور سیاسی اقتدار مرکوز کرنا ہی ان کا اصول ہے۔ اسی اصول اور آر ایس ایس کے سو برسوں کے سیاہ کارناموں کی ہم کھلے عام مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ آج آر ایس ایس کو سو برس مکمل ہو رہے ہیں۔ شیشوپال کی طرح ان کی صدی بھی پوری ہوئی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ منو سمرتی اور بنچ آف تھاٹ کو نذر آتش کرکے آر ایس ایس کو تحلیل کر دیا جائے۔
آج آئین ستیاگرہ پیدل یاترا نے وردھا ضلع میں قدم رکھا۔ تیسرے دن کی یہ یاترا کھڑکی سے شروع ہوکر لالووانی اور وردھا تک پہنچی۔ اس یاترا کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ کل 2 اکتوبر کو یہ یاترا سیواگرام آشرم پہنچے گی۔ اس یاترا میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تُشار گاندھی کی موجودگی نمایاں رہی، جب کہ سابق وزیر راجندر مولک، کانگریس لیڈر چارولتا ٹوکس، شیکھر شندے، وردھا ضلع کانگریس صدر منوج چاندورکر، جنرل سکریٹری اننت مہوڑ، راجندر ٹڈکے، سندیش سنگھلکر، شاعر گیانیش واکوڑکر، کرالے گروجی، شیلش اگروال، فیروز میٹھی بور والا، شیو سینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (ایس پی) سمیت کئی سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ آر ایس ایس کو بھارت کا آئین منظور نہیں۔ آزادی کے بعد کئی برسوں تک ان کے دفاتر پر قومی پرچم لہرایا نہیں گیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک منو سمرتی کے مطابق چلے۔ آئین نے ہر فرد کو آزادی دی ہے مگر آر ایس ایس نے ذات اور مذہب میں نفرت کو فروغ دیا، تنوع میں اتحاد کو دبایا۔ سو برسوں میں نفرت اور زہر کی بیج بوئے گئے، انسانوں میں تفریق کی گئی، مندروں میں داخلہ روکا گیا، عورتوں اور مردوں کی مساوات کو رد کیا گیا۔ آر ایس ایس کی زہریلی سیاست کے سائے میں بدعنوانی بڑھی اور بہوجن سماج کی تذلیل ہوئی۔ ہم سب بھارتی آر ایس ایس کے ان 100 برسوں کے سیاہ کارناموں کی مذمت کرتے ہیں۔ اب جبکہ ان کے 100 برس مکمل ہو رہے ہیں تو انہیں آئین کو تسلیم کرنا چاہیے، اپنے دفاتر میں مہاتما گاندھی کی تصویر اور آئین رکھنا چاہیے اور سنگھ کا باقاعدہ اندراج کرنا چاہیے۔
ریاست میں شدید بارش اور سیلاب پر بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ کسان بدحال ہو چکے ہیں، ان کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ مگر مہایوتی حکومت کسانوں کو راحت دینے کے بجائے صرف سروے اور پنچنامہ کے نام پر وقت ضائع کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ قحط باراں کا اعلان کرتے ہوئے فی ہیکٹر 50 ہزار روپے فوری امداد دے، جب کہ جہاں زمین بہہ گئی ہے وہاں فی ہیکٹر 5 لاکھ روپے کی امداد دی جائے۔ یہی وقت ہے کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرے اور دیوالی سے پہلے کسانوں کی قرض معافی کرے۔
MPCC Urdu News 1 October 25.docx