خواتین ریزرویشن مودی حکومت کا نیاجملہ ہے:سندھیا سوالاکھے

اگر مودی حکومت ایماندار ہے تو مردم شماری اور حد بندی کی شرط ہٹا کر فوری طور پرریزرویشن نافذ کرے

او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن کا فائدہ ملنا چاہئے

ممبئی: مودی حکومت کے اب تک کے تمام اعلانات ووعدے جھوٹے نکلے ہیں۔ ان کے تمام اسکیموں کا فائدہ عوام کو نہیں بلکہ ان کے صنعتکار دوستوں کو مل رہا ہے۔خواتین کو ریزرویشن دینے کا اعلان بھی مودی حکومت کا نیا جملہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ خواتین طبقے کے ساتھ دھوکہ ہے، کیونکہ مردم شماری اور حد بندی کی وجہ سے آنے والے کئی سالوں تک خواتین کوریزرویشن نہیں ملے گا۔ یہ باتیں کہتے ہوئے مہاراشٹر پردیش مہیلا کانگریس کی صدر سندھیا تائی سوالاکھے نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وزیر اعظم مودی خواتین کو واقعتاریزرویشن دینا چاہتے ہیں تو انہیں شرائط و ضوابط کو ہٹا کر پانچ ریاستوں کے ہونے والے اسمبلی انتخابات میں خواتین کو ریزرویشن دیں۔

پیر کو تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھیا تائی سوالاکھے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو مردوں کے برابر مواقع فراہم کیے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم، پہلی خاتون صدر، پہلی لوک سبھا اسپیکر دی ہے۔سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا انقلابی فیصلہ لیا تھا۔ پھر سونیا گاندھی نے یو پی اے حکومت کے دوران راجیہ سبھا میں خواتین ریزرویشن ایکٹ پاس کروایا۔ اس کے بعد پچھلے نو سالوں میں راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کوپوری طاقت سے مسلسل آگے بڑھایا۔ اس کی وجہ سے مودی حکومت کو خواتین کو ریزرویشن کا فیصلہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ خواتین کے ریزرویشن ایکٹ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کی۔ اس لیے جس دن سے یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوا، اس دن سے خواتین کو ریزرویشن ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن مودی حکومت خواتین کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی۔ اس لیے اس نے مردم شماری اور حلقہ بندی کی شرط لاگوکردی ہے تاکہ خواتین کو کم از کم اگلے 10-15 سال تک ریزرویشن نہ مل سکے۔

سوالاکھے نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں گزشتہ نو سالوں میں مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں خواتین کے خلاف مظالم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے ایم ایل اے اور ایم پی خواتین پر مظالم کر رہے ہیں اور بی جے پی حکومت ان ظالم لیڈروں کو تحفظ دے رہی ہے۔ اس لیے ملک بھر کی خواتین میں بی جے پی کے خلاف زبردست عدم اطمینان ہے۔ مودی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس کا اثر پانچ ریاستوں کے آئندہ اسمبلی انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے خواتین کی ریزرویشن کے نام پر ایک نیا جملہ لایا گیا۔ 2021 میں ہونے والی مردم شماری ابھی تک نہیں ہو سکی۔ اس سال بھی ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ سال 2024 میں لوک سبھا انتخابات ہیں، اس لیے اگلے سال بھی مردم شماری ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد حد بندی کمیشن بنایا جائے گا اور تجاویز اور اعتراضات سنے جائیں گے، اس میں معلوم نہیں کتنے سال لگیں گے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خواتین کو کب ریزرویشن ملے گا۔ سوالکھے نے مزید کہا کہ یہ ملک کی کروڑوں خواتین کے ساتھ دھوکہ ہے۔نریندر مودی نے خواتین کو مواقع سے محروم کرنے کا گناہ کیا ہے۔جس کا خمیازہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو بھگتنا پڑے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading