مفتی سلمان ازہری کو با عزت بری کرکے ملک سے خوف و ہراس کا ماحول ختم کریں۔۔
سرکاری اختیارت کا بیجا استعمال فوری بند کرنے کا مطالبہ ۔۔۔
عثمان آباد(محمد مسلم کبیر) مفتی سلمان ازہری کو سرکاری اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے گجرات پولیس نے اُن خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ،153(اے) اور(بی)اور 505 کا بھی اطلاق کیا گیا ہے۔یہ دفعات کسی بھی طبقہ یا گروہ یا افراد کو کسی دوسرے کے خلاف مشتعل کرنے کی حرکت پر سزا کے دفعات ہیں اسی طرح ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 188اور 114 بھی لگایا گیا ہے۔ان دفعات کو مسلم مذہبی شخصیت پر عائد کر کےمحض مسلم اقلیت میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش ہے۔بلکہ آزادئ اظہارخیال جو عوام کا بنیادی حق ہے اور اس حق سے عوام بالخصوص مسلم اقلیت کو محروم ر کھنے کے مترادف ہے۔لہٰذا مفتی سلمان ازہری پر گجرات پولس کی جانب سے ہو رہی بیجا زیادتی اور گرفتاری کو فوری باطل قرار دیا جائے اس طرح کا مطالبہ ضلع عثمان آباد کے پرنڈہ شہرکے بلالحاظ مسلک تمام مسلمانوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔ تحصیلدار پرنڈہ کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کے نام پیش کیے گئے یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی رہنما اور اسکالر مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری دستوری حقوق کی خلاف ورزی ہے جو قابل مذمت ہے۔لہٰذا مولانا مفتی سلمان ازہری کی فوری طور پر با عزت رہائی کی جائے۔حالانکہ مفتی ازہری نے ایسا کوئی مشتبہ بیان نہیں دیا جس طرح اُن کی غیر قانونی گرفتاری کی گئی۔ بلکہ ہندو شدّت پسند اور شر پسند مقرر مسلمانوں کے خلاف آئے دن زہر افشانی کرتے ہیں اُن کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا گرفتاری سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ سوال کرتے ہوئے اہلیان پرانڈہ شہر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے خوف و ہراس کا ماحول نہ بنائیں بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں معاون و مددگار بنیں۔
تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کرتے وقت محمد بلال،حافظ ثقلین سوداگر،حفیظ الدین کرپوڑے،شبّیر خان پٹھان،کونسلر عرفان شیخ،نصرت کرپوڑے،جمیل خان پٹھان،سلمان شیخ، ڈاکٹر عباس مجاور،شہر قاضی ظفر علی،حافظ شاہ نواز رضا، ایڈوکیٹ ظفر جنیری،مولانا شہباز عطاری، اور شہر کے تمام مساجد کے آئمہ اور سماجی و سیاسی شخصیات موجود تھے۔
Md.Muslim Kabir,
Latur Distt. Correspondent ,
URDU MEDIA,
9175978903/8208435414
alkabir786
