برق گرتی ہے تو بیچارے…

0 34
Moiz Hashmi
معزہاشمی
منظور پورہ ،اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۱ (مہاراشٹر
موبائل  :  +91 9372696300
email : mhmypleasure@gmail.com
نئی نویلی دلہن کو ایک نیا طعنہ اوئی ماں اتنے بھی گئے گزرے ہوگئے ہم کہ شادی جیسی تقریب پر بھی تمہارے باوا نے ضیافت میں چنے چٹپٹے سے خاطرتواضع کی ۔ اپنی لاڈلی کے لئے پڑوسی ریاست سے چھٹانک گوشت منگا لیتے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے بچوں کی شادیوں میں دیگیں اور تندور لگے تھے ، وہ نان کی فراوانی تھی کہ گرماگرم دسترخوان پر سجائی گئی۔ ساتھ ہی قلیہ کی نہریں سارے شادی خانے میں بہنے لگیں۔ زخمی نان کے ٹیلے بن گئے۔ دوسرے دن اترے ہوئے قلیہ کی دیگوں سے سارا محلہ عجیب سی خوشبو سے معطر ہوگیا۔ آہ! وہ بھی کیا زمانہ تھا جب اٹھاؤ دسترخوان ، بچھاؤ دسترخوان کی صدائیں گونجتی تھیں۔ وہ صف بندیاں ، وہ دسترخوان پر یلغار ، وہ قلیہ سے لبریز کٹورے ، وہ گرم گرما تندور سے نکلی نان ، نان سے سجے سرخ دستر خوان ، آس پاس سے بے پرواہ حلق تر کرنے میں بزرگ و جوان بندے ایک عجیب نفسانفسی کا ماحول قیامت صغریٰ کا نظارہ پیش کرتی ہوئی وہ عظیم الشان ضیافتیں نظربد کا شکار ہو کر کچھ ہی دنوں میں قصۂ پارینہ ہوگئی۔ یہ سب سن کر آں میاں نے ایک لمبی سانس لی۔ دمہ کے مرض میں مبتلا آں میاں پر کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا۔ بمشکل تمام اپنی کھانسی پر قابو پاتے ہوئے وہ خالہ ماں سے مخاطب ہوئے۔ اس میں دلہن بی بی کا کیا قصور ہے ، آپ ہی نے رشتہ طے کرنے میں اتنی تاخیر کیا گریہی تقریب دو مہینے پہلے منعقد کی جاتی تو آپ بھی اپنے ہاتھوں سے قلیہ کے کٹورے میں نان کے ٹکڑے تر کر کے اپنے حلق سے اتارتیں ۔ ساری غلطی تو آپ ہی کی ہے۔ ذرا سے لین دین پر اڑ گئی اور نان قلیہ جیسی لذت سے بھرپور مقوی غذا سے خود بھی محروم رہی اور ہم جیسے شوقین کو دو زانو بیٹھنے کی سعادت سے بھی محروم رکھا۔ آں میاں نے آنے والے دنوں کے بارے میں پیش گوئی بھی کردی کہ نئی نسل کچھ دنوں بعد دیکھے گی کہ میوزیم میں تبدیل ہوئے شہر کے عالیشان شادی خانوں میں جہاں چھوٹی بڑی تانبے کی دیگیں جو برسوں باورچی کے ہاتھوں کے لمس سے قلیہ کو ذائقہ دار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ، قرینے اور ترتیب سے سچائی گئی ہیں۔ ساتھ ہی آہنی کمانوں سے لٹکتے جرمن کے بادیئے ، جن میں تام چینی اکھڑے پانچ کٹوروں کو انتہائی خوبصورتی سے رکھا گیا جیسے ان کا اب کبھی استعمال نہیں ہوگا۔ سالوں دہکتی آگ کے شعلوں سے کندن یا تندور جس نے کبھی گرم گرم نان سے اپنے شائقین کے ذوق لذت میں دوآتشتہ کا کام کیا۔ ان تمام اسلحہ کو میدان طعام میں کارہائے نمایاں انجام دینے پر انتہائی ادب و احترام سے میوزیم کی زینت بنایا گیا ہوگا ، انھیں دیکھ کر آنے والے نسلیں اپنے بزرگوں پر فخر کریں گی جنہوں نے میدان کارزار میں نصرت و فتح کے پرچم لہرائے۔ ان برتنوں میں کنٹلوں سے کھانا پکایا جاتا اور چند ہی ساعتوں میں سینکڑوں دعوتی انھیں دشمنوں کی طرح دسترخوان سے چٹ کر جاتے اور ڈکار تک نہیں لیتے۔ یہ تھے ہمارے بزرگوں کے اوصاف ۔ اگر وہ کمزور و ناتواں بھی ہوتے تو کم سے کم دو نان وقت واحدمیں ہضم کر جاتے ۔ ہمیں تو فخر کرنا چاہئے کہ ہم اس بہادر قوم کے سپوت ہیں جن کے اسلاف نے دیگیں کی دیگیں الٹا دی اور زخمی نان کے انبار لگادیئے اور طعام خانوں سے سرخرو واپس لوٹیں۔ قفہ پارینہ ہم اپنے احباب میں ایسے بیان کریں گے جیسے نان قلیہ کی آراستہ محفل میں چہاردرویش تناول طعام فرماتے ہوئے داستان سنارہے ہیں۔ بات طعنہ سے نکل کر عمل ہضم و ذائقہ سے ہوتی ہوئی میوزیم میں تبدیل ہوئے عظیم الشان شادی خانوں تک پہنچ گئی جہاں نان قلیہ میں استعمال ہوئے ظروف قرینے سے زائرین کی زیارت کے لئے رکھے گئے تھے۔ بچے کچے بزرگ نئی نسل کا ہاتھ تھامیں حسرت سے گذرے وقت کا نظاہرہ کررہے تھے اور رال ٹپکتے ہونٹوں کو بار بار رومال سے صاف کررہے تھے آج اگر ہمارے وہ بزرگ بقیدحیات ہوتے جنھوں نے اپنی عمر کے ایک بڑے حصہ کو نان قلیہ تناول فرمانے میں جٹا دیا ۔ وہ تو آج اس فیصلہ کے خلاف پرزور احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاتے اور سارا دسترخوان سر پر اٹھا لیتے اور پھر سارا ماحول لحم لحم و شحم شحم کی صداؤں سے گونج اٹھتا۔
ایک عرصہ سے اپنے احباب کو دعوت نان قلیہ پر مدعو کرنے کا قوی ارادہ کئے ہوئے تھے۔ موجودہ صورتحال میں پابندیٔ لحم نے ہمارے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ اس میں ہماری نیک نیتی پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ قانون کے آگے ہم سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ہمارے احباب ہماری قانونی مجبوری کو سمجھ پائیں ، ایسا بھی نہیں کہ دنیائے ذائقہ سے نان قلیہ ہمیشہ کے لئے ناپسند ہوجائے۔ وہ کسی نہ کسی شکل میں پھر اپنے لذت دار لوازمات کے ساتھ آئے گا اور دل کے گوشہ سے یہ صدا بلند ہوگی کہ نان قلیہ ہو تو کھانے کا مزہ ہے۔ ارباب مجاز نے نان قلیہ کی صنعت پر کاری ضرب لگائی اور ساتھ ہی ساتھ وہ چھوٹی صنعتیں جیسے مصالہ جات کی گرنیاں زیادہ مقدار میں آنے کی چکیاں ظروف فراہمی کے کاروبار شامیانے اور کرسیوں کا کاروبار اور ان سب سے بڑھ کر وہ کامیاب کاریگر جن کے ہاتھوں نان قلیہ کے ذائقہ میں لذت پیدا ہوتی۔ ہم نان قلیہ سے منسلک تمام حضرات اور اس کے ذائقہ سے آشنا تمام شائقین حضرات سے پُرخلوص درخواست کرتے ہیں کہ نسخہ نان قلیہ کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ ایسی مشکل گھڑی میں ثابت قدم رکھیں۔ ائے خدا تو رزاق ہے تو ہی رزق دیتا ہے ہمیں ہمارے لقمہ تر کو چھیننے والے رہنماؤں کی غلطیوں کی ہمیں سزا نہ دے۔ کمزور و ناتواں نان قلیہ کی شیدائیوں کی لذت کو جاری و قائم رکھ۔ تیرے ہی نیک بندوں نے اسے ہم تک پہنچایا اور ہمارے بزرگوں نے اس کی بھرپور پرورش و نگہبانی کی اور اس شہر خجستہ بنیاد اور باون دروازوں کے ساتھ اس مقوی غذا کو شہرت کی بلندی پر پہنچایا۔ وھوخیرالرازقین پر ہمیں مکمل یقین ہے۔ بھوکوں کو تو نے تیتر بٹیر دیئے ، ہم تو صرف قلیہ و نان کے سوالی ہیں ، ہماری مرغوب غذا سے ہمیں محروم نہ رکھ اور جن کو تو نے ہمارے لئے پیدا کیا ان کو ہمارے لئے خاص کردے اور ساتھ اس صنعت اور اس سے منسلک تمام چھوٹی بڑی صنعتوں کو متاثر ہونے سے بچائے رکھ۔ خدایا ظالم ایک دروازہ بند کرتا تو تو ستّر کھول دیتا۔ آیئے حضرات اسی لذت کام دہن کی بقاء کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور گڑگڑاکر دعائیں مانگیں۔ تناول طعام ماحضر میں ہم نوالہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔
نوٹ : نان قلیہ سیریز کو چند دنوں کے لئے ملتوی کیا جارہا ہے ، امید ہے ہم سب شائقین کی دعا بارگاہ رب العزت میں شرف قبولیت ہوگی۔ آمین