مہراج گنج(عبید الرحمن الحسینی)
بنگال الیکشن کے خوش کن رزلٹ آنے کے بعد ہم تمام سیکولر اور جمہوری قوتوں کی طرف سے محترمہ ممتا بنرجی کی طاقتِ جگر کو سلام پیش کرتے ہیں، بے اختیار اپنے پیارے ملک کے تحفظ و بقاءکے لئے جھانسی کی رانی یاد آگئیں جب ہندوستانیوں کی زبانوں پر یہ ولولہ انگیز رزم جاری تھا، خوب لڑی مردانی وہ تو جھانسی والی رانی تھی۔ اس وقت ملک کو فرقہ پرست قوتوں کے استبدادی پنچے سے بچانا وقت تقاضا ہے، تو ہم یہ رز میہ شعر پڑھتے ہیں ۔خوب لڑی ممتا دیدی وہ تو بنگال کی شیرنی ہے۔

مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیة علماءمہراج گنج کے سرپرست حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پورے ملک کے بڑے حصے میں سرکار چلانے والی مرکزی حکومت نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر پورے ملک کو اپنی انتظامی انا کی اور کرونا کے مہا ماری کے دلدل میں ڈھکیل کر بنگال کے الیکشن پر پورے آٹھ مہینے تک ممتا دیدی کی بنگال سرکار کو خرخشہ میں ڈال کر نظم کے نام پر بدنظمی اور شانتی کے نام پر اشانتی پھیلانے میں لگی تھی، جس نے اپنا استبدای پنجہ گاڑنے کے لئے کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہ دیا، مگر ہم بنگال کی شیرنی اور اس کی ہمت اور جواں مردی کے لئے اور بنگال کے عوام کے ان کے احساس و شعور کی بیداری کے لئے پوری طرح مبارکباد پیش کرتے ہیں