مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ، ادیب کامل، مجلہ ” الداعی ،، کے ا یڈیٹر حضرت مولانا نور عالم خلیل الامینی کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ: مولانا نور عالم خلیل الامینی نہ صرف دارالعلوم دیوبند کے لئے کوہ نور تھے بل کے ان کا شمار عرب وعجم کی مشہور شخصیات میں ہوتا تھا، اس کورونا وباء کے دور میں دیگر بہت ساری شخصیات کی طرح وہ بھی گذشتہ شب اس دار فانی سے کوچ کرگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون، اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، آمین۔ مولانا کاانتقال ، امت مسلمہ بالخصوص دارالعلوم دیوبند کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے، یقینا وہ ایسا غم ہے، جو ایک دولمحہ کا نہیں بلکہ صدیوں کا غم ہے، کیوں کہ امت نے ایک ایسا چراغ شب تاب کھویا ہے، جس سے ایک دنیا روشن تھی۔ اس وقت یہ کہا جائے کہ علم وفن کا ایک بحر ذخار خشک ہوگیا، اور علمی وادبی انجمن کا خاتمہ ہوگیا، تو مبالغہ نہ ہوگا۔
بلاشبہ مولانا کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کے لئے عموماً اور علمی وادبی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ ہے، آپ کے انتقال سے دنیا بھر کی تمام ادبی و علمی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے، مرحوم نہ صرف یہ کہ دارالعلوم دیوبند کے قابل استاذ اور ماہر انشاءپرداز تھے بل کہ ایک ممتاز ادیب بھی تھے۔ آپ کا شمار مولانا وحید الزماں کیرانوی ؒکے خاص شاگردوں میں ہوتا تھا، رسوخ علم کی بنیاد پر مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی کو بھی آپ کے علم وادب پر کامل اعتماد تھا، یہ وجہ رہی کہ مولانا مرحوم دیوبند سے قبل بارہ سال تک ندوة العلماءلکھنو ¿ میں بھی عربی زبان وادب کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو عربی زبان پر قدرت ، ترجمہ کی مہارت، حسن انشاءاور مقالات ومضامین کے علاوہ ” الداعی،، کی وجہ سے اندرون ملک کے ساتھ بیرون ممالک کے علمی وادبی حلقوں میں بڑی شہرت اور عزت ملی، ان انشاءاللہ یہ ان کے علمی کارنامے ان کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے۔
سربراہ اعلیٰ نے کہا کہ :مولانا نورعالم خلیل امینی ایک تحریک ، ایک انجمن تھے۔ آپ نے بڑی خوبصورت اور شاندار اسلوب کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کی عربی زبان کے حوالہ سے جس طر ح آبیار ی فرمائی، ایسی مثالیں کم ملتی ہیں،،وہ عربی نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے اور” الداعی،، کی ادارت کیلئے ایک مخلص ذمہ دار کی حیثیت سے اپنی گراں قدر خدمات تادم واپسیں انجام د یتے رہے، مولانا کو عربی ادب میں یدطولیٰ حاصل تھا ہی، اردو ادب کے بھی وہ بہترین شہسوار تھے، انہوں نے اپنے نوک قلم سے دسیوں کتابوں کا گلدستہ سجایا ، جسمیں سب سے مشہور تصنیف اپنے استاذ محترم مولانا وحید الزماں کیرانوی ؒ کے تعلق سے ” وہ کوہ کن کی بات،، ہے۔ بلاشبہ مولانا کی موت سے دارالعلوم دیوبند کاجو علمی وادبی خسارہ ہواہے اس کا پر ہونا نا ممکن تو نہیں ، البتہ مشکل ضرور دکھائی دے رہا ہے۔
دارالعلوم فیض محمدی کے سربراہ اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ عام الحزن ، اور عام الاموات ہے، اس وقت ملک بھر میں موتوں کا سلسلہ جاری ہے، کیا چھوٹے کیا بڑے، کیا عالم ، کیا عامی، کیا غریب ، کیا امیر، سبھی وائرس کی زد میں آکر اپنی جان گنواں رہے ہیں، آپ نے دارالعلوم فیض محمدی کے رکن شوریٰ جناب نثار احمد(سنگھ پور تالہی)ودارالعلوم فیض محمدی کے زیر انتظام مدنی منی آئی ٹی ، آئی، کے استاذ ماسٹر شمیم احمد کے والد بزرگوار(گورکھپور) ، اور ماسٹر جمیل احمد کے بھائی،( برجمن گنج، کے علاوہ جناب ڈاکٹر سبحان اللہ صاحب کی اہلیہ محترمہ(للائن پیسیا) کے انتقال پر بھی اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں دارالعلوم فیض محمد ی واقراءفاو ¿نڈیشن جملہ مرحومین کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہے، اور سوگوار خاندن سے تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے، اللہ تمام مرحومین کی بال بال مغفرت فرمائے۔آمین۔