امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کے انتقال سے مسلم پرسنل لاءبورڈ یتیم ہوگیا: قاری محمد طیب قاسمی

مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) ملک کی عظیم روحانی وعلمی شخصیت ، امیر شریعت ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے جنرل سکریٹری و خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے انتقال پردارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں سوشل ڈسٹنسنگ کا خیا ل رکھتے ہوئے ایک تعزیتی نشست آج بعد نماز ظہر مسجد” النور،، میں ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی ، جس میں مرحوم کے لئے آیات کریمہ پڑھ کر ان کے حق میں ایصال ثواب کیا گیا۔
ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : مولانا رحمانی نہ صرف مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے جنر ل سکریٹری کے عہدہ پر فائز تھے بلکہ اپنی خداداد صلاحیت وصالحیت کے بنیاد پر ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے سرگرم و فعال رہنماءوقائد بھی تھے۔ آپ کے سانحہ ارتحال سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے۔ مولانا مرحوم سے اسٹیجو ں پر جب بھی ملاقات کا شرف ملتا ، علیک سلیک کے بعد خیریت معلوم کرتے ، اور ملی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ، آج وہ ہمارے درمیا ن نہ رہے، مگر ان کی یاد باقی ہے، مولانا سے میرے مراسم طالب علمی کے دور سے تھے ، جب آپ میرے استاذ محترم جناب مولانا محمد باقر صاحب ؒ کو اپنے والد مولانا منت اللہ رحمانی کی تحریک پر جامعہ رحمانی مونگیر میں مدرسی کے لئے لے جانے کی خاطر آتے جاتے رہے، اور وہ ایک دن انہیں اپنے ادارہ میں لے جانے میں بالآخر کامیاب بھی ہوگئے۔
دارالعلوم کے سربرا ہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ: مولانا محمد ولی رحمانی بلاشبہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے لئے ایک روشن دماغ کی حیثیت رکھتے تھے، وہ ملت کی بے لوث خبر گیری اور عالم اسلام کے حالات پر گہری نظر بالخصوص بابری مسجد کی باز یافت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے جس طرح فکرمندی اور جاں سوزی کے ساتھ مسلم پرسنل لا ءبوڈر کی آبیاری کی اور اپنی فکر ودانش سے اسے قوت عطا کی، وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ، ان خدمات وقربانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ مولانا رحمانی بورڈ کے ایک مخلص وطاقتور قائد ہونے کے ساتھ مضبوط ترین ستون تھے۔ ایک لمبے عرصے تک بورڈ کو اپنے خون جگر سے سینچتے رہے، اور اسکی ترقیات کے لئے کوشاں اور ملک بھر میں اسے بافیض وباوقار بنانے کے لئے سرگرم عمل رہے، وہ اب دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں،یقینا یہ وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ سے کم نہیں ہے ، بورڈ میں ایسا عظیم خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا بظاہر ممکن نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے انتقا ل سے بورڈ یتیم ہوگیا ہے، اس یتیمی کو دور کرنے کے لئے ہم مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ارباب حل وعقد بالخصوص حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے درخواست کرتے ہیں، کہ مولانا رحمانی کے عہدہ کو پًر کرنے کے لئے ، ایسے باکمال وفعال شخص کا انتخاب کیا جائے جو مولانا منت اللہ رحمانی وقاضی مجاہد الاسلامؒ کی فکر وشعور اور خوبیوں کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کے اندر قائدانہ خصوصیات و کمالات موجود ہوں۔
الغرض آج ارض وسماءماتم کنا ں اور انسان سوگوار ہے کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ ، ایک عبقری شخصیت، بلند پایہ قائد ،و عظیم مرشد سے محروم ہو گیا۔ ہم دعاءکرتے ہیں کہ آپ کی رحلت سے مسلم پرسنل لاءبورڈ ،وخانقاہ رحمانی مونگیر سمیت ملت کا جو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اللہ بہترین بدل عطا فرمائے۔ اور مولانا رحمانی ؒکے درجات کو بلند فرمائے، اور جملہ پسماندگان بالخصوص عہدیداران واراکین بورڈ اور خانقاہ مونگیر کے متوسلین ومریدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اس تعزیتی نشست میں، مہتمم ادارہ مولانامحی الدین قاسمی ندوی، مفتی احسان الحق قاسمی معاون مدیر ماہ نامہ ” احیاءاسلام ، ڈاکٹر محمد اشفا ق قاسمی، ناظم تعلیمات مولانا محمد انتخاب عالم ندوی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولا محمدصابر نعمانی ، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا محمدیحیٰ ندوی، حافظ ذبیح اللہ ،، حافظ محمد ناظم ، محمد قاسم، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد ، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر صادق علی، ماسٹر فیض احمد ، ملا محمد مسلم ، وغیرہ موجود تھے۔