26 November, 2020 17:43

مولانا کلب صادق اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے:مولانا محمد طیب قاسمی

آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدر و مشہور شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کیلئے عموماً وعلمی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ ہے، مولانا مرحوم” سلطان المدارس وعلی گڈھ مسلم یونیورسٹی،، کے ممتاز فضلاء میں سے تھے، فراغت کے بعد آپ نے اپنی تعلیمی، رفاہی وامدادی کاموں کے لئے لکھنو کو مرکز بنایا، وہیں سے آپ نے ملک بھر میں اپنی سرگرمیوں کو اپنی وفات تک جاری رکھا، آپ کے قائم کردہ توحید المسلمین ٹرسٹ کے ذریعہ ہزاروں طلبہ نے تعلیمی امداد اور اسکالر شپ حاصل کرکے اپنی اپنی تعلیم کو مکمل کی، یقینا یہ مولانا کا تعلیمی کاموں سے بے پناہ دلچسپی کا بین ثبوت ہے، آپ نے ہر میدان میں ملت کی رہنمائی کی ،خاص طورپر تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں، انہوں نے پوری زندگی تعلیمی پچھڑے پن کو ختم کرنے کے لئے وقف کردی تھی، وہ اپنی تقریروں میں نئی نسل کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے پر بہت زور دیا کرتے تھے، انشاءاللہ رہتی دنیا تک آپ ہمیشہ ایک عظیم ماہر تعلیم اور سماجی مصلح کی حیثیت سے یاد کئے جائیں گے۔

مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کیا۔ سربراہ اعلیٰ نے مزید کہا کہ: مولانا ملت کا درد رکھنے والے بے باک قائد تھے، گذشتہ دنوں جب پورے ملک میں شہریت ترمیم قانون (CAA) کے خلاف احتجاج ودھرنے ہورہے تھے، اس وقت ان ریلیوں میں آپ اپنی علالت کے باوجود وہیل چیئر کے سہارے دھرنے کی جگہ پہنچ کر کلیدی رول ادا کیا ہے ، وہ ناقابل فراموش ہے ۔ لکھنو کے میدان اس کے گواہ ہیں ۔ مولانا انتہائی فعال اور متحرک شخصیت تھے، میرا ماننا ہے کہ وہ ایک شخصیت ہی نہیں بل کہ ایک تحریک تھے، مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر میں یکساں معروف ومقبول تھے، ملت کی خاطر ہر وہ کام کیا جس سے ملت کی پیشانی روشن رہے، یہی وجہ ہے کہ اتحاد بین المسلمین کے لئے ہر ممکن جدوجہد خود بھی کی اور لوگوں کو اس کی طرف ترغیب بھی دیتے رہے ۔ خدا ان کے درجات کو بلند کرے، آمین۔
دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے مولانا کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: عظیم ملی رہنما مولانا کلب صادق کی رحلت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملت یتیم ہوگئی ہے، بلا شبہ وہ شریف النفس باکردار ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ سنی اتحاد کے علمبردار ، ماہر تعلیم ، اور ایک درجن سے زائد عصری دودینی تعلیم گاہوں کے بانی وموسس بھی تھے ،آج مولانا گوکہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف منتقل ہوچکے ہیں، مگر وہ ملی ، تعلیمی اور رفاہی کاموں کے لئے اپنی بے لوث خدمات کے نتیجے میں عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔
ادارہ کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مولاناکلب صادق کے سوگوار اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کا اس دنیاسے رخصت ہوجانا، ملت بالخصوص مسلم پرسنل لا بورڈ کا اتنا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی مستقبل قریب میں مشکل نظر آتی ہے، چوں کہ آپ جیسے باوقار وممتاز قائدین ملت اسلامیہ کی جس تسلسل کے ساتھ وفات ہورہی ہے ، اسے دیکھ کر ہر شخص سکتہ میں ہے ، ایسا لگتا ہے کہ دنیا اب اپنی تمام تر رعنائیوں اور تابناکیوں کے باوجود تاریک ہوتی جارہی ہے، ایسی ایسی عظیم شخصیات واعلیٰ قیادت کا انتقال ملت کےلئے باعث محرومی نہیں تو اور پھر کیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading