25 سال بعد ناندیڑ میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کا کامیاب انعقاد

ناندیڑ:ـ26؍نومبر ( ورقِ تازہ نیوز) انتخابات کے بعد نتائج اور ان کے اثرات کا تذکرہ جاری رہتا ہے، جو نہ صرف ووٹروں کے درمیان بلکہ سرکاری مشینری میں بھی نظر آتا ہے۔ ناندیڑ ضلع میں کئی جگہوں پر کانٹے کے مقابلے دیکھنے کو ملے۔ ایک ہی وقت میں دو مختلف انتخابات کے متضاد نتائج آئے۔ تاہم ووٹر لسٹ، ووٹوں کی گنتی، ووٹوں کی گنتی کے مراکز کی ترتیب اور وہاں کی سہولیات کے حوالے سے انتظامیہ کے پاس ایک بھی شکایت درج نہیں کی گئی۔

اس شفاف عمل پر عوام کے مثبت ردعمل پر انتظامیہ نے شکریہ ادا کیا ہے۔ناندیڑ کے ووٹروں نے اسمبلی میں ایک پارٹی کو مکمل حمایت دی، جبکہ لوک سبھا میں دوسری پارٹی کو منتخب کیا۔ کئی جگہوں پر سخت مقابلے ہوئے، لیکن اس دوران شفافیت اور شفاف نظام (سسٹم؍انتظامیہ ) نے عام آدمی کو ای وی ایم پر اعتماد کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پورے عمل میں کسی قسم کی شکایت نہیں ملی، اور یہ شفافیت عوام کے سامنے پیش کی گئی۔

کوئی شکایت درج نہیں ہوئی: لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے حوالے سے انتظامیہ کو ووٹر لسٹ کے سلسلے میں ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ کئی جگہوں پر ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی شام 6 بجے سے پہلے پولنگ اسٹیشن پہنچنے والے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران کسی قسم کی بدنظمی پیش نہیں آئی۔ پولنگ اسٹیشن کی ترتیب کے حوالے سے بھی کسی نے کوئی اعتراض درج نہیں کرایا۔

25 سال بعد مشترکہ انتخابات:اس انتخاب میں چند واقعات نہایت اہم ثابت ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ 25 سال بعد ضلع کے شہریوں کو ایک ہی وقت میں لوک سبھا اور اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے کا موقع ملا۔ پہلے تین ٹیبل پر لوک سبھا کی علیحدہ ای وی ایم رکھی گئی، اس کے بعد ایک اور ٹیبل پر اسمبلی کے لیے علیحدہ ای وی ایم۔ لوک سبھا اور اسمبلی کے لیے علیحدہ ای وی ایم پر ووٹ ڈالنے کا طریقہ تاریخی ثابت ہوا۔ اس طرح شہریوں کو ایک بار سیاہی لگوا کر دو مرتبہ ووٹ ڈالنے کا حق ملا۔ چھ انتخابی حلقوں میں جہاں لوک سبھا اور اسمبلی ایک ہی وقت میں تھیں، وہاں چند پولنگ مراکز پر بہت کم لوگوں نے ایک انتخابات کے لیے ووٹ دیا اور دوسرے انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا۔ ایسے ووٹ نہ ڈالنے والے ووٹروں کا اندراج ووٹر رجسٹر میں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لوک سبھا کے لیے ڈالے گئے ووٹ اور لوک سبھا حلقے میں آنے والے اسمبلی حلقے کے کل ووٹوں میں 15 ووٹوں کا فرق درج کیا گیا ہے۔

تروپتی کی طرز پر انتخابی پیٹرن:ناندیڑ میں لوک سبھا اور اسمبلی میں ووٹوں کا الگ رجحان دیکھنے کو ملا۔ یہی رجحان پوسٹل ووٹوں میں بھی نظر آیا۔ اسمبلی انتخابات میں 6 اسمبلی حلقوں میں کانگریس کے امیدواروں کو کل 4835 پوسٹل ووٹ ملے، جبکہ بی جے پی۔شیوسینا۔نیشنلسٹ الائنس کو 7446 ووٹ ملے۔ اس کے برعکس لوک سبھا میں کانگریس کو 8524 اور بی جے پی کو 6410 پوسٹل ووٹ ملے۔ اس طرح کا الگ پیٹرن آندھرا پردیش کے تروپتی ضلع میں بھی دیکھا گیا تھا، جہاں ایک ہی وقت میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔
ووٹرز کے رجحانات اور شفافیت: اس انتخاب میں ووٹنگ کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 61 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 67.81 فیصد (لوک سبھا) اور 69.45 فیصد (اسمبلی) ہو گئی۔ اس اضافے کا سہرا عوامی بیداری، ووٹر ایپ، اور مختلف تشہیری سرگرمیوں کو دیا جا سکتا ہے۔

پوسٹل ووٹ کی اہمیت:اس انتخاب میں پوسٹل بیلٹ کو بھی بہت اہمیت حاصل ہوئی۔ اپنے پوسٹل بیلٹ کو صحیح طور پر شمار ہونے کے لیے، ملازمین نے شعور کے ساتھ ووٹ ڈالنا شروع کیا اور اس کے لیے کوششیں کیں۔ اپنے دستاویزات کو مناسب طریقے سے فراہم کرنے کی کوشش کی۔ پوسٹل بیلٹ کی اہمیت کا اندازہ ان امیدواروں کو ہے جنہیں پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹ ملنے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور جیتنے والے امیدوار کو بھی۔ ضلع میں پوسٹل بیلٹ نے لوک سبھا کی سیٹ کا فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے ملازمین کو اب پوسٹل بیلٹ کی اہمیت کا شعور ہونا چاہیے اور اس کی دیکھ بھال کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اس انتخاب نے یہ بات اجاگر کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading