ممبئی:6/ مارچ ۔( ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت کی سب سے مقبول اسکیم "لاڈلی بہن” ہے۔ اس اسکیم کو اس وقت کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے شروع کیا تھا اور یہ اسمبلی انتخابات میں بہت کامیاب رہی۔ اس اسکیم کی وجہ سے مہایوتی کو اسمبلی انتخابات میں بڑی کامیابی ملی۔مہایوتی کو 232 نشستیں ملیں جبکہ مہا وکاس اگھاڑی کے تینوں جماعتوں کو ملا کر 50 نشستیں بھی نہیں مل سکیں۔
اس انتخابی منشور میں مہایوتی نے لاڈلی بہنوں کو 1500 روپے کے بجائے 2100 روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس لیے اب بہنیں 2100 روپے کب سے ملیں گے، اس کا انتظار کر رہی ہیں۔اس بارے میں خواتین و بچوں کی ترقی کی وزیر آدیتی تٹکرے نے اہم معلومات فراہم کیں۔وزیر اعلیٰ "ماجی لادکی بہن” اسکیم کے نفاذ کے بارے میں ایم ایل اے انیل پرب کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے خواتین و بچوں کی ترقی کی وزیر آدیتی تٹکرے نے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ نے ایسا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے۔
حکومت جب کوئی اسکیم کا اعلان کرتی ہے تو منشور 5 سال کا ہوتا ہے۔بجٹ میں اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، لیکن فی الحال 2100 روپے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔اس لیے لاڈکی بہنوں کو 2100 روپے ملنے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ آدیتی تٹکرے کے اسمبلی میں بیان سے لاڈلی بہنوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ تاہم، تمام خواتین کو فروری اور مارچ کے مہینے کا 1500 روپے یعنی دو ماہ کی قسط 3000 روپے اسی ماہ خواتین کے دن سے پہلے ملے گی۔