ممبئی:19 فروری ۔ (ورق تازہ نیوز)سیاسی رہنماؤں کی سیکورٹی کے حوالے سے دیویندر فڈنویس کی قیادت والے محکمہ داخلہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ان رہنماؤں کی سیکورٹی کم کرنے کا محکمہ داخلہ نے فیصلہ کیا ہے جن کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔ اس فیصلے کا بڑا اثر شیوسینا کے رہنماؤں پر پڑنے کا امکان ہے۔ محکمہ داخلہ نے شیوسینا کے ایم ایل ایز کی سیکورٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ناراضگی کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ریاست میں عظیم اتحادی حکومت قائم ہوئے صرف اڑھائی ماہ ہوئے ہیں۔ لیکن بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اختلافات کم نہیں ہو رہے ہیں۔ اب ان اختلافات کی وجہ بن گیا ہے ایم ایل ایز کی سیکورٹی میں کٹوتی کا فیصلہ۔ جن کی جان کو خطرہ نہیں ہے، ان رہنماؤں کی سیکورٹی میں کمی کا فیصلہ محکمہ داخلہ نے کیا ہے۔
شیوسینا کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے کچھ ایم ایل ایز اور رہنماؤں کی سیکورٹی میں بھی کمی کی گئی ہے۔
کون کون سے رہنماؤں کی سیکورٹی کم کی گئی؟
سابق وزیر- دیپک کیسرکر، سابق وزیر- تانا جی ساونت، سابق وزیر- عبدالستار، شیوسینا ایم ایل اے سہا کانڈے، شیوسینا ایم ایل اے پرکاش سوروی، سابق ایم ایل اے شاہاجی باپو پاٹل کی سیکورٹی میں کٹوتی کی گئی۔ بی جے پی کے ایگزیکٹو صدر رویندر چوان، سابق وزیر سریش کھاڈے، این سی پی کے رہنما ایم ایل اے پرتاپ راو پاٹل چکھلیکر کی سیکورٹی میں کمی کی گئی۔ اب ان رہنماؤں کی سیکورٹی میں صرف ایک سیکورٹی گارڈ ہوگا۔ اب اسی پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔
شیوسینا کی پھوٹ کے دوران چالیس ایم ایل ایز کو وائی گریڈ سیکورٹی
2022 میں شیوسینا میں ہونے والی پھوٹ کے بعد ایکناتھ شندے کے ساتھ باہر آنے والے شیوسینا کے تمام چالیس ایم ایل ایز کو وائی گریڈ سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس وقت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ایل ایز کو سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ ان ایم ایل ایز کے آگے پیچھے پولیس کی گاڑیوں کا قافلہ ہوتا تھا، اس کے ساتھ ہی ان کے گھروں کو بھی سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ لیکن اب یہ ساری سیکورٹی ہٹائی جانے کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوا ہے۔