15 May, 2020 15:38

مدارس اسلامیہ اور ٹیچنگ ایڈز کا استعمال!
از قلم : رفیع اللہ قاسمی

علم ایک بے پایاں سمندر ہے اور درحقیقت حقائق الاشیاء کے ادراک کا نام ہے۔ انسان اور دیگر مخلوقات میں بنیادی فرق علم کا ہی ہے۔ دیگر مخلوقات میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کریں جبکہ انسان ذرائع کو استعمال کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔
علم کی دو قسمیں ہیں۔
1۔وہبی
2۔ کسبی
علم وہبی جسے علم لدنی بھی کہا جاتا ہے وہ علم ہے جو بذریعہ وحی، الہام یا فراست منجانب اللہ عطا ہو اور اس میں انسان کی کوشش کو ذرہ برابر بھی دخل نہ ہو۔ دوسرا علم وہ ہے جس کی استعداد تمام انسانوں میں رکھ دی گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ ذرائع(محنت و کسب) کا استعمال کر کے ہر وقت اپنے علم میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اسے علم کسبی کہا جاتا ہے۔
علم کسبی سے ہر ایک معلم و متعلم کا سامنا ہوتاہے۔ مدارس اسلامیہ میں دیئے جانے والے علوم کسبی ہوتے ہیں۔

جس طرح نماز شروع کرنے سے پہلے کچھ چیزوں(نیت، طہارت، وضو، ستر،استقبال قبلہ وغیرہ) کا پورا ہونا ضروری ہے۔ جنھیں نماز کی شرائط کہتے ہیں۔ جب تک یہ شرطیں پوری نہ ہوں نماز شروع نہیں کر سکتے۔ اگر شروع کردی گئی تو نماز درست نہ ہوگی۔ اسی طرح تعلیم کے باب میں بھی علم حاصل کرنے کے لیے کتاب، کاپی، قلم، پنسل، استاد، تختہ سیاہ اور درسگاہ کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک یہ چیزیں موجود نہ ہوں پڑھنا لکھنا شروع نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی آلات علم کی کمی رہ گئی اور پڑھائی شروع کر دی گئی تو پڑھائی لکھائی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔

*چند آلات علم اور ان کی اہمیت وافادیت:*
1۔ *تختہ سیاہ/ ڈیجیٹل بلیک بورڈ*
اب تک علوم اسلامیہ تھیوریز کے طرز پر پڑھائے جانے کا عام طریقہ رائج ہے۔ اس طریقے میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کونسا طالبعلم سمجھ چکا ہے اور کونسا طالبعلم ابھی تک نہیں سمجھا ہے۔مدارس اسلامیہ میں تختہ سیاہ کا استعمال بمنزلہ صفر ہے۔ سراجی پڑھانے کے لیے شاید کبھی کبھار استعمال کر لیا جاتا ہے۔ جبکہ درس نظامی کی ابتدائی درجات میں تختہ سیاہ کا استعمال طلبہ کی بہت ساری دشواریوں کو بآسانی کم کر سکتا ہے۔ علم صرف میں پنچ گنج اور علم الصیغہ پڑھاتے ہوئے تعلیل وغیرہ کے لیے اگر تختہ سیاہ کی مدد لی جائے تو غبی سے غبی تر طالب علم کو مشکل سے مشکل تعلیل ذہن نشیں کرائی جا سکتی ہے۔

2۔ *سالانہ اسباق کی منصوبہ بندی*
اسباق کو منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائے جانے سے اچھا نتیجہ نکلتا ہے۔ سال میں کتنے ایام ایسے ہوں گے جب اسباق جاری رہیں گے؟ تعطیلات، اعادہ اسباق کے ایام اور زمانہ امتحان کے ایام کو وضع کر کے یہ دیکھا جائے کہ کتنے ایام اسباق کی تدریس ممکن ہے۔ اسی لحاظ سے زیر تدریس کتاب کے اسباق کا اندازہ لگایا جائے کہ پہلا سبق کتنے دن میں ختم ہوسکتا ہے، دوسرا کتنے دن میں اسی طرح ہر سبق کا اندازہ لگا کر کل ایام اور کل اسباق کے درمیان تطبیق دے کر روزانہ کی تدریس کے لیے ایک حصہ متعین کر لیا جائے اور ایک خاکہ بنا لیا جائے۔ اسی خاکے کے اعتبار سے درس ہو تو سال کے آخر میں اسباق دوڑاکر کتاب ختم کرانے کی رسم پر روگ لگائی جا سکتی ہے۔

*3۔ ماہانہ اسباق کی منصوبہ بندی*
سالانہ اسباق کی منصوبہ بندی کی طرح ماہانہ اسباق کی منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے۔ ایک مہینے میں کتنی چھٹیاں ہیں؟ کتنے دن تعلیم ہوگی؟ اس ماہ کوئی اور ایکٹیویٹی تو نہیں ہے؟ ان سب چیزوں کا خیال کر کے ماہانہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اسی ماہانہ منصوبے کو سامنے رکھ کر تدریس جاری رکھنے سے تمام چیزوں کو تدریجا طلبہ تک پہونچانے میں آسانی ہوتی ہے۔

4۔ *اسباق کا نوٹ*
یہ daily lesson plan کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ پڑھائے جانے والے حصہ کی تیاری کی جاتی ہے۔ سبق کی شروعات کیسے کی جائے گی؟ آج کے سبق کا مقصد کیا ہوگا؟ مواد کو طلبہ کے سامنے پیش کرنے کی ترتیب کیا ہوگی؟ آج کے سبق کا خلاصہ کیا ہوگا؟ ہوم ورک کیا دینا ہے؟ ان تمام چیزوں کی منصوبہ بندی daily lesson plan میں کی جاتی ہے۔ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلم و مدرس تدریس سے پہلے اسباق کا مطالعہ کرے، تیاری کرے اور ایک نوٹ تیار کرے۔ گویا نوٹ کی تیاری اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ استاد محترم نے پڑھانے کی تیاری کی ہے۔ مدارس کی طالب علمی کے زمانے میں ایسا تجربہ رہا ہے کہ کچھ اساتذہ مطالعہ کئے بغیر یا سرسری مطالعہ کے بعد کلاس میں حاضر ہوتے تھے۔ بلا مطالعہ تدریس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ بارہا ایسا تجربہ ہوا ہے کہ مطالعہ کر کے اگر استاذ محترم آئے ہیں تو درس کی کچھ الگ ہی شان ہوتی تھی اور اگر بلا مطالعہ تشریف آوری ہوئی ہے تو تدریس میں کچھ بھی جان نہیں رہتی تھی۔

5۔ *چارٹس وغیرہ کا استعمال*
درس نظامی میں بہت سارے ایسے موضوعات ہیں جن کی وضاحت ناقص رہ جاتی ہے۔ طلبہ ایسے موضوعات کو بہت مشکل بھی سمجھتے ہیں۔ جیسے زکوة، طلاق اور حج وغیرہ۔ ان جیسے ابواب کو چارٹس کی مدد سے اور آسان بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے جن چیزوں میں زکوة فرض ہے ان کا نام، نصاب، اوزان، زکوة کے مصارفین کی لسٹ، طلاق کی قسمیں ان کے درمیان فرق اور حج وغیرہ کے مسائل چارٹس یا ڈیجیٹل چارٹس کے ذریعے واضح کرنے پر اوسط درجے کے طلبہ بھی بآسانی تمام چیزوں کو سمجھ سکیں گے۔

6۔ *آڈیو/ ویڈیو کلپ وغیرہ کا استعمال*
حدیث کے ابواب میں بہت سارے ابواب ایسے ہوتے ہیں جن کی تفہیم میں آڈیو یا ویڈیو کلپ معاون بن سکتے ہیں۔ جیسے مغازی کے ابواب، جنگ کا نقشہ، میسرہ اور میمنہ وغیرہ کی شکل یا حج کی تفہیم میں ویڈیوز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حج کو بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ حج کا مکمل طریقہ ویڈیوز کی شکل میں موجود ہے۔ حج کا باب شروع کرنے کے پہلے دن اگر اس ویڈیو کو طلبہ کو دکھا دیا جائے تو یہ باب بہت آسان ہو جائے گا۔

7۔ *تدریس کی جانچ*
گاہے بگاہے درسگاہ میں حاضر ہو کرمجلس تعلیمی کا ناظم یا سپروائزر سبق کو سنے۔ اس سے اساتذہ سبق کی تیاری کر کے جائیں گے نیز ذمہ داران کو استاذ محترم کی رہنمائی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مدارس اسلامیہ میں ٹیچنگ ایڈز کے استعمال کو رواج دیا جائے تو متوسط درجے کے طلبہ کی تفہیم میں مدد ملے گی اور وہ طلبہ جن کی توجہ پڑھائی میں لگتی ہی نہیں ایسے طلبہ کو متوجہ کرنے میں ان طریقوں سے مدد لی جا سکے گی اور معیار تعلیم کو مزید بلند کیا جا سکے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading