Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

دنیا کے تمام اہل مدارس ، خانقاہیں ، اور تنظیموں کے ذمہ داران کو بلاتفریق مرکز نظام الدین دہلی کی پر زور حمایت میں آگے آنا چاہیے :مولانا قاری محمد طیب قاسمی

IMG_20190630_195052.JPG

آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں اتحاد ملت کے صدر ذی وقار مولانا توقیر رضا خان بریلی شریف، اور خواجگان اجمیر شریف،نیز خانقاہ اشرفیہ ، کچھوچھہ شریف ودیگر تمام خانقاہوں کے سجاد گان، اللہ ان اکابر کی سوجھ بوجھ کو کو قبول فرمائیں،اور اتحاد اسلام کے لئے اتفاق کی تمام مسلکی شاہراہوں پر چل کر وحدت اسلامی کو قائم کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ، آمین۔

مرکز نظام الدین تبلیغی جماعت کا موجودہ واقعہ دو طریقہ سے قابل غور ہے ،ان الذین جاءوابالافک عصبة منکم لاتحسبوہ شرا لکم بل ہو خیر لکم، بظاہر تو اس میں شر دکھا ہے، مگر اس شر کے پہلو میں دو چیزیں نمایاں ہیں، ایک تو یہ کہ اتنی بڑی جماعت جس کا نیٹ ورک پوری دنیا کے 190 ملکوں میں پھیلا ہوا ہے، اور جس کی مدت کار تقریباً نوے سال پر محیط ہے ،ابھی تک غیر مسلموں پر دعوت کی محنت نہیں کرپایا ہے، اور ظاہر ہے کہ جب تک مدعو کی طرف سے کوئی تشکیک ، کوئی اختلاف ، کوئی فساد، کی شکل نہیں پیدا ہوتی، تو عام طور پر داعی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، پس اب اتنا بڑا پروپیگنڈہ جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، اور اس ماحول میں جب عالمی خطرہ کی وجہ سے پوری دنیا سناٹے میں تھی، تو اب جماعت کے ذمہ داروں کو ادھر توجہ فرمانے کی بھی ضرورت محسوس ہونی چاہئے، تاکہ تذکیری دعوت کے ساتھ تبلیغی دعوت کا کام بھی جاری ہو، اور اس فریضہ کی طرف سے ذمہ داران جماعت سبکدوش ہوسکیں، اور مدعووین کی طرف سے انکی طرف متوجہ ہونے کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ موجودہ حالات ذمہ داران جماعت کو جھنجھوڑنے کے لئے لائے گئے ہیں، اس کو کام کے لئے مفید سمجھتے ہوئے ، قدرت کے اشاروں کو سمجھیں، ظاہر ہے کہ یہ نبوی کام نبوی طریقے پر ہی چلے گا، جس کو اپنے دور خلافت میں سیدنا عمر فاروق نے سمجھا اور کرکے بھی دکھایا، مملکت کا جب کا م بہت وسیع ہوگیا، تو حکومت کو الگ الگ صوبوں میں بانٹ دیا گیا، فل ٹائمز فوجوں کا انتظام ہوا، رجسٹر بناکر تمام کاموں کا ریکارڈ بھی رکھا جانے لگا، رعایا میں جو وظائف مقرر ہوئے ، اس کا بھی دیوان قائم کیا گیا، اور تقسیم وظائف کو چست ودرست کردیا گیا اور میرے آقا حضر ت نبی ﷺ اپنے ہی دور میں ( محمد رسول اللہ ) کے نام مہر بنوائی، اورجب بھی شاہان عالم کو خطوط لکھا ،تو ان مہروں اور اسٹامپس کے ذریعہ خطوط کو مزین کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ جب کام بڑھتا ہے تو طریقہ کار بھی حسب ضرورت پروان چڑھتا ہے ، اور اس قسم کی تبدیلیاں لایا جاناعین شریعت کے مزاج کے مطابق ہوتا ہے ،یہی ہم کو سیرت نبوی اور سیرت صحابہ سے درس ملتا ہے۔

امیر جماعت حضرت جی مولانا سعد صاحب ”حفظہ اللہ ،،نے اپنے طور پر اقدام کرنے میں کہیں کوئی کوتاہی نہیں فرمائی، انہوں نے بروقت اقدامات کئے ، مگر وہ موجودہ حالات کے ضابطوں سے عاری تھے، انہوں نے تبلیغی دوستوں کو مرکزسے جو ہدایات جاری کیں، یاسرکاری سطح جو الزامات قائم ہوئے ان کے جوابات ایک سادہ سے پیپر پر عام سطح پر لکھوا دیئے گئے، جس کا اثر خاطر خواہ نہیں ہوا، ایسانہیں ہونا چاہئے تھا ، ایک عالمی مرکز کو ، عالمی ذرائع سے مضبوط ہونا ضروری ہے، ذرائع ابلاغ پہلے محدود اور مخلص ہوتا تھا، مگر جیسے جیسے اس میں توسیع ہوتی گئی، فرقہ پرستی پروان چڑھتی گئی، اور ہرچیز کے معانی ومفاہیم بدل گئے، لازم ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔
ہمارے نبیﷺ نے کھانے پینے کے تعلق سے ایک دسترخوان کو بابرکت اورسماجی انصاف کا حوالہ قرار دیا ہے، مگر لوگوں نے مشترک تھالی کو سنت ٹھہرا دیا، میرا اس وقت موضوع ایسی چیزوں پر بحث کا نہیں ہے، ہم توصرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پر جن شخصیات نے آگے بڑھ کر قوم کو انصاف دلانے کا عملی اقدام کیا ، ہم ان کا شکریہ اداکریں، صدرجمعیةعلماء ہندحضرت مولانا سید ارشدمدنی حفظہ اللہ ، وجنر ل سکریٹری مولانا سید محمود اسعد مدنی، حفظہ اللہ نے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریو ں کا بہت بہتر ثبوت دیا،اول الذکر تو اپنی عمر عزیز کی آخری منزلوں پر ہیں، اس لئے انکی درازی عمر کی دعا بھی کرتے ہیں، اور تمام مدارس ، مکاتب نیز دینی وسماجی جماعتوں سے گذارش کرتے ہیں کہ تبلیغ والے جو ہمیشہ آپ کی دنیا ودین کی بھلائیوں کے لئے دعاء کرتے ہیں، ا ن کی دعاو ¿ں کی برکت سے ہی آپ اتنے دنوں تک خطرناک مرض سے محفوظ ہیں، ظاہر ہے کہ 137 کروڑ کی آبادی میں چند ہزار کا متاثر ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ آج ان جماعتوں پر اگر فتنہ پیدا ہوگیا تو ان کے لئے آپ اپنی ہر طرح مددکرنے کے لئے کھڑے ہوجائیں۔