نئی دہلی۔ 28 اکتوبر ۔سپریم کورٹ کی ایک بینچ جس کی صدارت چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کریں گے اور جس میں جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف شامل ہوں گے۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف رام مندر۔ بابری مسجد اراضی تنازعہ کے مقدمہ کی 29 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔ یہ معاملہ پہلی بار ایک تین ججس کی بینچ پر پیش کیا جارہا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ 27 ستمبر کو ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دستوری بینچ سے اس معاملے کو رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نظیر کی رکنیت پر یہ بینچ مشتمل تھی۔ اسمعیل فاروقی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ نماز کی ادائیگی ایک مذہبی فریضہ ہے، لیکن نماز ضروری نہیں کہ کسی مخصوص مقام پر ادا کی جائے جب تک کہ مذہب کے لئے اس مقام کی نمایاں اہمیت ہو۔اس کی مخالفت سینئر قانون داں راجیو دھون نے جو سنی وقف بورڈ کی پیروی کررہے تھے، کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ تحفظ کی مستحق ہے اور اس کی نمایاں اہمیت کا تقابل عقائد کے تنازعات کی یکسوئی کیلئے نہیں کیا جاسکتا۔ اس سوال پر بھی غور کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا 1994ءکا فیصلہ دوبارہ دہرایا جاسکتا ہے۔