یمن میں حوثی باغیوں نے جمعے کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔حوثی باغیوں نے اسرائیل اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران حملوں کے لیے بحیرہ احمر کو استعمال کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔
انصار اللہ گروپ کے فوجی ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ بھی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحیرہ احمر کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران اور کسی بھی مسلم ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بیانات حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ضرورت پڑی تو وہ ’فوجی کارروائی‘ میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔
حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی سے نشر کی گئی ایک تقریر میں اُنھوں نے کہا: ’ہم بطور یمنی عوام، وفاداری کا بدلہ دیتے ہیں۔ یمن کی آزمائش میں، سرکاری سطح پر ہمارے ساتھ یکجہتی کرنے والا واحد ایران تھا اور عمومی سطح پر وہ مزاحمت کا محور تھا۔‘
ذرائع نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئربیس پر ایرانی حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ حملے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے۔ان میں سے دو امریکی فوجی ’بہت شدید‘ زخمی ہوئے جبکہ آٹھ ’شدید‘ زخمی ہوئے ہیں