اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2400 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یرغمالیوں کی رہائی تک غزہ کو بجلی، پانی یا ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا:اسرائیل
اسرائیل کے وزیر توانائی اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔
اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اغوا کاروں کی رہائی تک بجلی کا سوئچ آن نہیں کیا جائے گا، کوئی واٹر ہائیڈرنٹ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی کوئی ایندھن کا ٹرک داخل ہوگا۔
اسرائیل نے سنیچر کو حماس کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی کو رسد کی فراہمی روک دی تھی۔
غزہ کے ہسپتالوں کا مردہ خانوں میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے: ریڈ کراس
بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں بجلی کی کمی کی وجہ سے ان کے مردہ خانوں میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔
غزہ کی پٹی کے واحد بجلی گھر نے ایندھن کی قلت کی وجہ سے بدھ کو کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ بشمول ہسپتال جنریٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی تازہ فراہمی کی ضرورت ہے۔
غزہ کو بجلی کی زیادہ تر فراہمی اسرائیل سے آتی تھی جس نے حماس کے حملے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع کردی تھی۔
آئی سی آر سی کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ فیبریزیو کاربونی کا کہنا ہے کہ ’اس کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی مشکلات گھناؤنی ہیں اور میں فریقین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شہریوں کی مشکلات کو کم کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں بجلی کی کمی کے باعث ہسپتالوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کو انکیوبیٹرز اور عمر رسیدہ مریضوں کو آکسیجن پر رکھنے کا خطرہ لاحق ہے۔ گردے کا ڈائیلاسز بند ہو جاتا ہے، اور ایکسرے نہیں لیے جا سکتے۔‘
کاربونی نے حماس کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔