ہندوستانی چمگادڑوں سے ملک کے لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں:گنگاکھیڈکر

نئی دہلی 15اپریل(یو این آئی)انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر)نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے جو معاملے سامنے آرہے ہیں ان کا چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس(بیٹ کورونا وائرس)سے کوئی تعلق نہیں ہےاور ہندوستانی چمگادڑوں سے ملک کے لوگوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔آئی سی ایم آر کے محکمہ وبا کے سائنس داں ڈاکٹر رمن آر گنگا کھیڈکر نے یو این آئی کو بتایا کہ چین میں انسانوں میں کورونا وائرس کے معاملے سامنے آنے کے بعد سائنسدانوں نے اس وائرس اور چمگادڑوں میں پائے جانے والے بیٹ کورونا وائرس کی جینوم سکونسنگ کی تھی اور دونوں میں کافی حد تک مماثلت بھی دیکھی گئی تھی لیکن مطالعہ سے یہ ثابت نہیں ہوسکا تھا کہ یہ وائرس براہ راست چمگادڑوں سے انسانی آبادی میں پہنچا تھا۔ایسا صرف میوٹیشن سے ہو سکتا ہے اوراس قسم کا واقعہ ہزاروں سال میں ایک بار ہوتا ہے۔

دوسراامکان یہ ہوسکتا ہے کہ چمگادڑوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس ایک دیگر دودھ پلانے والے جانور پنگولین میں چلا گیا ہواور وہاں سے پھر یہ انسانی آبادی میں پہنچا ہو۔مسٹر گنگاکھیڈکر نے بتایا کہ ہندوستان میں چمگادڑوں کی دو اقسام میں یہ کورونا وائرس دیکھنے کو ملا تھا لیکن ہندستانی چمگادڑوں سے ملک میں اس بیماری کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ملک میں جب نپاہ وائرس کا انفکشن کیرالہ میں ہوا تھا تو اس طرح کا مطالعہ چمگادڑوں پر کیا گیا توان کی دواقسام میں یہ وائرس ملا تھا۔اب ہم نے اس تعلق سے احتیاط برتنی شروع کردی ہےکہ ایسے جانوروں سے انسانی آبادی کو تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔یہ وائرس چمگادڑوں میں ضرور پایا جاتا ہے لیکن ہمیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading