ہندوستانی فوج پر شبہ ظاہر کرنے والے اُباٹھا کے رکن پارلیمنٹ کی تحقیقات کی جائے: نریش مہسکے
شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ کا الزام – سنجے راؤت اور اروند ساونت پاکستانی فوج کے ترجمان بن چکے ہیں
تھانے (آفتاب شیخ)
آپریشن سندور میں ہندوستانی فوج کی شجاعت و بہادری پر سوال اٹھانے والے اُباٹھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت اور اروند ساونت کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے اور ان کی مکمل تحقیقات کی جائے۔ یہ مطالبہ شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے نے کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستانی فوج کی کارروائی پر شبہ ظاہر کرکے یہ دونوں رکن پارلیمنٹ پاکستانی زبان بول رہے ہیں اور ان کی حیثیت پاکستانی فوج کے ترجمان جیسی ہو گئی ہے۔
تھانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہسکے نے کہا کہ ’’گرے تو بھی ٹانگ اوپر‘‘ جیسی قابل اعتراض بات آخر کس کو نشانہ بنا کر کہی گئی؟ کیا یہ بیان ملک کے ہوائی اڈوں اور فوج کی تیاریوں کی توہین نہیں ہے؟ اروند ساونت کو فوراً اس بیان پر وضاحت دینی چاہیے۔
"بھارتی فوج کسی پارٹی کی نہیں، ملک کی فوج ہے"
نریش مہسکے نے کہا کہ فوج نے اپنی کارروائی کے ثبوت فوٹو اور ویڈیو کی شکل میں فراہم کیے ہیں، اس کے باوجود شبہ پیدا کرنا نہ صرف فوج کی توہین ہے بلکہ یہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1971 کی جنگ کے وقت بھی پاکستانی اخبار یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے تھے کہ پاکستان جیت گیا، مگر اس وقت اپوزیشن کے رہنماؤں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ آج بھی اپوزیشن کو اسی روش پر چلنا چاہیے۔
"راؤت کو پاکستانی اخبار کا ایڈیٹر بننا ہے کیا؟"
انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج راؤت کے بیانات سن کر لگتا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ترجمان یا کسی اخبار کے ایڈیٹر بننا چاہتے ہیں۔ مہسکے نے پوچھا کہ 2006 کے ٹرین بم دھماکوں اور 2008 کے ممبئی حملوں کے وقت راؤت کو اندرا گاندھی کی یاد کیوں نہیں آئی؟ اس وقت وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ تھے، لیکن عملی طور پر سونیا گاندھی ہی سب کچھ چلا رہی تھیں۔ کیا اس وقت کسی نے پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی بات کی تھی؟
مہسکے نے زور دے کر کہا کہ بھارتی فوج کی بہادری پر شبہ کرنا اور اس کے خلاف رائے عامہ بنانا سیدھا سیدھا غداری ہے۔ لہٰذا سنجے راؤت اور اروند ساونت کے بیانات کی جانچ ہونی چاہیے اور ان پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔