آسٹریلیا میں سڈنی بونڈائی ساحل پر فائرنگ کرنے والے ایک حملہ آور پر قابو پانے والے جس نہتے شخص کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، اس کی شناخت 43 سالہ احمد الاحمد کے نام سے ہوئی ہے۔بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں احمد کو مسلح حملہ آور پر جھپٹتے ہوئے اور اس کی بندوق چھینتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد احمد نے بندوق چھین کر اسی حملہ آور پر تان لی تھی۔احمد کے اہلخانہ نے سیون نیوز آسٹریلیا کو بتایا ہے کہ وہ ایک پھل فروش ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ اس وقت احمد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کو بازو اور ہاتھ پر گولیاں لگیں تھیں اور ہسپتال میں ان کی سرجری کی گئی ہے۔احمد الاحمد کے والد نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ ’احمد نے اپنے جذبات، اپنے ضمیر اور انسانیت‘ کے لیے حملہ آور کا مقابلہ کیا۔احمد شام میں پیدا ہوئے تھے۔ شام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے ایک انکل نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ: ’احمد پر سب کو فخر ہے، ہمارے گاؤں کو، شام کو، تمام مسلمانوں اور پوری دنیا کو۔‘احمد الاحمد کے والدین نے اے بی سی نیوز سے بات کی ہے۔ محمد فتح الاحمد اور ملاکح حسن الاحمد کے مطابق ان کا بیٹا 2006 میں آسٹریلیا آیا تھا اور چند ماہ پہلے تک ان کی اس عرصے میں ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ احمد الاحمد کے والدین کے مطابق وہ خود چند ماہ پہلے ہی سڈنی پہنچے ہیں۔انھوں نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس نے دیکھا کہ لوگ مررہے ہیں اور جب حملہ آور کا اسلحہ ختم ہوا تو وہ اس پر جھپٹ پڑا لیکن اسے بھی گولی لگ گئی۔
ہماری دعا ہے کہ خدا اسے بچا لے۔‘احمد الاحمد کے والد نے کہا کہ ’اس نے جو اس وقت کیا، وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ جن لوگوں کو وہ بچا رہا ہے وہ کون ہیں۔ وہ قومیت کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔ یہاں آسٹریلیا میں ایک شہری اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ اتوار کو آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ہونے والے اس واقعے میں 15 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیا کی پولیس نے اس واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا ہے جس میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔https://waraquetaza.com/vid_20251216033937-mp4/احمد کے ایک کزن، مصطفی، نے سیون نیوز آسٹریلیا کو بتایا کہ ’وہ ہیرو ہے، 100 فیصد ہیرو ہے۔ اس کو دو گولیاں لگی ہیں، ایک بازو پر اور ایک ہاتھ پر۔ سوموار کے دن مصطفی نے بتایا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو گا۔ میں رات کو اس سے ملا تھا۔ وہ ٹھیک تھا لیکن ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔‘پولیس کے مطابق حملہ آور باپ بیٹا تھے جن کی عمریں 50 اور 24 برس بتائی گئی ہیں۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 50 سالہ حملہ آور ہلاک ہو چکا ہے جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا ہسپتال میں ہے۔احمد کی مسلح حملہ آور سے بندوق چھیننے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح شخص ایک درخت کے پیچھے آڑ لے کر بندوق سے فائرنگ کر رہا ہے۔اسی ویڈیو میں احمد کو قریب ہی ایک گاڑی کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور پھر وہ اچانک حملہ آور پر جھپٹتے ہیں اور اس سے بندوق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
احمد اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور حملہ آور کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔احمد اب بندوق کا رخ حملہ آور کی جانب کر دیتے ہیں جو ایک پل کی جانب پسپا ہو جاتا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد بندوق نیچے کر لیتے ہیں اور اپنا ایک ہاتھ ہوا میں بلند کر دیتے ہیں جیسے پولیس کو دکھانا چاہتے ہوں کہ وہ حملہ آور نہیں ہیں۔ جس حملہ آور سے احمد بندوق چھینتے ہیں اسے تھوڑی دیر بعد پل پر ایک اور بندوق کے ساتھ فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے.
اتوار کے دن پریس کانفرنس کے دوران نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے احمد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا جن کی شناخت اس وقت تک واضح نہیں تھی۔’وہ شخص حقیقی ہیرو ہے۔ اور مجھے اس بات میں شک نہیں کہ ایسے اور لوگ بھی ہیں۔ بہت سے لوگ اسی بہادری کی وجہ سے زندہ ہیں۔‘ترکی کے خبر رساں ادارے اے اے ڈاٹ کام ڈاٹ ٹی آر نے احمد کی بہادری کے حوالے سے اپنے مضمون میں نیو ساؤتھ ویلز سٹیٹ کے پریمیئر کرس منزکا بیان شائع کیا ہے۔اس کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز سٹیٹ کے پریمیئر کرس منز نے 43 سالہ احمد الاحمد کو ایک حقیقی ہیرو قرار دیا ہے اور کہا کہ ’اس ویڈیو میں میں نے اب تک کا سب سے ناقابل یقین منظر دیکھا ہے۔‘کرس منز نے کہا کہ ’ایک شخص ایک ایسے مسلح حملہ آور کے پاس جا رہا ہے جس نے کمیونٹی پر فائرنگ کی تھی، اور وہ یہ سب اکیلے اور نہتے رہ کر رہا ہے۔ اپنی جان خطرے میں ڈال کر بے شمار لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے اس نے یہ کیا۔‘آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البنیز نے بعد میں کہا کہ ’ہم نے آسٹریلوی شہریوں کو دوسروں کی مدد کرنے کے لیے خطرے کی جانب دوڑتے ہوئے دیکھا۔‘’یہ لوگ ہیرو ہیں اور ان کی بہادری نے زندگیاں بچائی ہیں۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی احمد کی تعریف کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کرسمس کی ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ ایک بہت زیادہ بہادر شخص تھا جس نے ایک حملہ آور پر حملہ کیا اور بہت سی زندگیاں بچائیں۔‘اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی احمد کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران نتن یاہو نے کہا کہ ’ہم نے ایک بہادر شخص کا عمل دیکھا، جو ایک بہادر مسلمان تھا، اور میں اسے سیلوٹ کرتا ہوں۔‘
احمد الاحمد کے بارے میں ہم مزید کیا جانتے ہیں؟
بی بی سی عربی کے مطابق احمد الاحمد مغربی شام کے صوبے ادلب میں سنہ 1981 میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے حلب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جس کے بعد انھوں نے شام کی پولیس میں بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔ملک چھوڑنے کے بعد وہ تین برس تک متحدہ امارات میں مقیم رہے اور پھر سنہ 2006 میں آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔وہ آسٹریلیا میں پھلوں کی دکان کھولنے سے قبل وہاں تعمیرات کے شعبے میں کام کرتے تھے۔بی بی سی عربی کے مطابق وہ شادی شدہ ہیں، ان کی دو بیٹیاں ہیں اور ان کے پاس آسٹریلوی شہریت بھی ہے