کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل کا الزام اور انڈین سفارت کاروں کی بے دخلی: ’انڈین ایجنٹ بشنوئی گینگ کو استعمال کرتے تھے‘

کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں انڈین عہدیداران کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع جنم لے رہا ہے جس کے دوران پہلے کینیڈا کی حکومت نے انڈیا کے ہائی کمشنر سمیت پانچ دیگر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے انڈیا نے بھی کینیڈا کے چھ سفارت کاروں کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب جون 2023 میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کر دیا گیا تھا۔

انڈیا میں کینیڈا کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے حالیہ تنازع کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیان دیا کہ ’ناقابل تردید شواہد انڈیا کی حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں اور اب اس بات کی ضرورت ہے کہ انڈیا ان شواہد کی تفتیش کرے۔‘ اس سے قبل اتوار کی شام کینیڈا کی حکومت نے کہا تھا کہ انڈین ہائی کمشنر اور بعض سفارتکاروں کا ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کے معاملے سے تعلق تھا۔

دوسری جانب انڈیا نے ان الزامات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے اور سوموار کی رات دلی سے کینیڈا کے چھ سفارتکاروں کو 19 اکتوبر تک، یعنی پانچ دن میں، ملک سے چلے جانے کا حکم دیا جن میں ‏عارضی ہائی کمشنر اور نائب ہائی کمشنر بھی شامل ہیں۔
بشنوئی گینگ اور سکھ علیحدگی پسند
کینیڈا سے چھ انڈین سفارتکاروں کو بیدخل کرنے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد اوٹاوا میں نیشل پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں پولیس سربراہ مائک ڈیوہیم نے الزام لگایا کہ ’انڈین حکومت کے ایجنٹ کینیڈا میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس سے مقامی معاشرے اور اور شہریوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔‘

ملک کی مختلف سیکورٹی فورسز کی مشترکہ تفتیش کے بعد رائل ماؤنٹد پولیس کے سربراہ نے نیوز کانففرنس میں کہا کہ ’پولیس کو حاصل ہونے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ انڈین حکومت کے ایجنٹ کینیڈا میں قتل اور پرتشدد وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔‘

کمشنر ڈیوہیم نے کہا کہ ’پولیس کی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ کینیڈا میں تعینات انڈین سفارتکار اور قونصل خانوں کے اہلکار اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر خفیہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جن میں براہ راست یا اپنے مخبروں کے ذریعے رضاکارانہ یا جبر کے ساتھ انڈین حکومت کے لیے معلومات حاصل کرنا شامل تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ شہریوں اور کاروبار کرنے والوں کو انڈین حکومت کے لیے کام کرنے کے لیے دھمکایا اور مجبور کیا جاتا تھا اور انڈیا کی حکومت ان افراد سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر جنوبی ایشیائی نژاد شہریوں کو ٹارگٹ کرتی تھی۔‘

اسسٹنٹ کمشنر بریگٹ گاوین نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’کینیڈا میں سنگین نوعیت کے مجرمانہ کیسوں میں مبینہ طور پر انڈین حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے کئی معاملات کی تفتیش چل رہی ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ خالصتان کے حامیوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ’جرائم پیشہ گینگ کا استعمال کیا جاتا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خاص طور سے بشنوئی گینگ کا نام لینا چاہوں گی، وہ انڈین ایجنٹوں کے ساتھ کام کرتے تھے۔‘

یاد رہے کہ لارنس بشنوئی انڈیا کا ایک گینگسٹر ہے جو گجرات کی ایک جیل میں قید ہے۔ لارنس بشنوئی پر پنجابی گلوکار سدھو موسے والا سمیت درجنوں افراد کے قتل کا الزام ہے اور حال ہی میں فلمی اداکاروں خاص طور پر سلمان خان سے قریب سمجھے جانے والے ممبئی کے سیاسی لیڈر بابا صدیقی کے قتل میں بھی بشنوئی پر ہی شک کیا جا رہا ہے۔
انڈیا کا جواب
انڈیا کی وزارت خارجہ نے پیر کی شام دلی میں تعینات کینیڈا کے ناظم الامور کو طلب کیا اور انھیں بتایا گیا کہ کینیڈا کی جانب سے جس طرح انڈین ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے وہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سخت بیان میں کہا گیا کہ ’حکومت نے موجوہ حالات میں کینیڈا سے اپنے سفیر اور ان سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جنھیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خارجہ نے کینیڈا کے ناظم الامور کو بتا دیا ہے کہ جس طرح ٹروڈو کی حکومت ’انڈیا کے خلاف انتہا پسندی، تشدد اور علیحدگی پسندی کی حمایت کر رہی ہے اس کے جواب میں انڈیا کینیڈا کے خلاف مزید قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

واضح رہے کہ کینیڈا کی حکومت نے اتوار کو انڈیا کو ایک نوٹس میں بتا دیا تھا کہ مقتول سکھ لیڈر کے قتل کے معاملے میں انڈین ہائی کمشنر ورما اور دیگر سفارتکاروں کا کردار نظر آتا ہے۔ انڈیا نے ایک بیان میں اسے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے سیاسی ایجنڈے سے تعبیر کیا تھا۔
انڈیا تعاون نہیں کر رہا‘
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے انڈیا کے وقت کے مطابق کل رات دیر گئے وزیر خارجہ اور عوامی سلامتی کے وزیر کے ہمراہ اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ ’تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے لیکن انڈیا اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ ہفتے کے روز کینیڈین اہلکاروں نے پولیس کی تفتیش سے حاصل ہونے والے شواہد انڈیا کو فراہم کر دیے تھے جن کے مطابق انڈیا کے چھہ سفارتکار مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت تھے لیکن ’انڈیا کی حکومت نے ہم سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

یاد رہے کہ انڈیا اور کینیڈا کے تعلقات گزشتہ سال ستمبر میں اس وقت تناؤ کا شکار ہوئے تھے جب وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایوان نمائندگان میں یہ الزام لگایا کہ سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے انڈیا کی حکومت کا تعلق ہے۔

اس وقت ٹروڈو حکومت نے یہ بتایا تھا کہ ’کینیڈا کے قومی سلامتی اداروں کے اہلکاروں کے پاس معتبر اور پختہ معلومات ہیں کہ نجر کے قتل کی واردات انڈین حکومت کے ایجنٹوں نے انجام دی تھی۔‘ اس الزام کے بعد انڈیا کے ایک سفارتکار کو کینیڈا سے نکال دیا گیا تھا ۔انڈیا کا یہی کہنا رہا ہے کہ کینیڈا نے اسے کوئی معتبر ثبوت پیش نہیں کیا ہے
ہردیپ سنگھ نجر کا قتل
ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا کے برٹش کولمیبا علاقے کے ایک سرکردہ سکھ رہنما تھے جو انڈیا کی پنجاب ریاست میں سکھوں کی ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے حامی تھے جبکہ انڈیا نے انھیں ایک مفرور دہشت گرد قرار دے رکھا تھا۔

انھیں گزشتہ سال نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور کینیڈین پولیس نے اس سلسے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ واضح رہے کہ کینیڈا میں انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھ بڑی تعداد میں آباد ہیں جن کا مقامی سیاست میں کافی اثرورسوخ ہے۔

گزشتہ جون میں ہی کینیڈا کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کی معلومات کی بنیاد پر ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’کینیڈا کے جمہوری اداروں کو جن ممالک سے سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ انڈیا اور چین ہیں۔‘ انڈیا نے اس وقت اپنا ردعمل دیتے ہوئے اس رپورٹ کو ’سیاسی محرکات پر مبنی اور سکھ علیحد گی پسندوں سے متاثر قرار دیا تھا۔‘ (بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading