ناندیڑ:18اکتوبر ( ورقِ تازہ نیوز)کیاقدیم شہر کے لوگوں کی قسمت میں نئی سیمنٹ کانکریٹ کی روڈ نہیں ہے؟ کیا انھیں ہمیشہ اسی طرح مرمت کرکے تیار ہونے والی سڑکوں کوا ستعمال کرنا ہوگا؟کیا ہمارا علاقہ ترقی سے محروم رہے گا؟یہ وہ سوالات ہیں جو فی الحال یہاں کے لوگوں میں موضوع بحث ہے ۔ہمیشہ سے یہ دیکھاجارہا کہ ترقی کے معاملے میں قدیم شہر کو نظرانداز کیاجاتا ہے ۔ جتنے اچھے اور زیادہ کام نئے شہر یعنی شیواجی نگر ‘ سری نگر ‘ آنند نگر ‘بھاگیہ نگر ‘ ورکشاپ ودیگر علاقوں میںانجام دئےے جاتے ہیں۔ اس طرح کے ترقیاتی کام قدیم شہر یعنی قدیم مونڈھا ‘ حبیب ٹاکیز منیارگلی ‘ اتوارہ ‘ دیگلورناکہ اورا س سے متصل علاقوں میں نہیں ہوتے ہیں۔
بلکہ سابق میںتو قدیم شہر کی ترقی کیلئے حکومت سے ملنے والا فنڈ بھی نئے شہر کے دیگر کاموںکیلئے منتقل کیاگیاتھا۔گزشتہ دو ماہ سے نئے شہر کے آئی ٹی آئی تا انابھاﺅساٹھے چوک اور ورکشاپ کارنر تا آنند نگر تک پختہ سیمنٹ کانکریٹ کی اہم سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ مگرقدیم شہرمیں گاڑے گاوں روڈ کی نئی تعمیر شدہ سڑک کو چھوڑ کر ایک بھی کام انجام نہیں دیاجارہا ہے۔ان علاقوں میںبھی اہم مین روڈ بہت خستہ حالت میں ہے ۔ریلوے اسٹیشن تادیگلورناکہ مین روڈ کی حالت بہت زیادہ خراب ہے اسی طرح ٹیپو سلطان روڈ ‘سائی نگر ، کھوجہ کالونی کے علاوہ دیگر اہم سڑکیں خستہ حالت کاشکار ہے۔
جب کبھی ان سڑکوں کی پختہ مرمت کیلئے آواز آٹھائی جاتی ہے تو صرف سڑکوں پر موجود گڑھوں کو بھرنے کا کام کردیاجاتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن تادیگلورناکہ سڑک کے گڑھوںکو ہرسال اسی طرح بھرا جاتا ہے لیکن چند ہفتوں کے بعد دوبارہ سڑک کی حالت خراب ہو جاتی ہے ۔اب گزشتہ روز بھی اسی طرح کا کام انجام دیاجار ہا ہے سڑک پر جہاںجہاںگڑھے ہیں وہاںپر ہاٹ میکس ڈامبر کے ذریعہ انھیں بھرا جارہا ہے۔لیکن کچھ دنوں کے بعدا س سڑک کی حالت بھی خراب ہونے والی ہے۔
اس سڑک کے کام کا کریڈیٹ کانگریس اور راشٹر وادی یوتھ کانگریس لے رہی ہے اوردونوں بھی دعویٰ کررہے ہیں انکی نمائندگی کے سبب محکمہ پی ڈبلیو ڈی نے سڑک کا کام شروع کیا ہے۔خیرجس کسی کی بھی نمائندگی سے کام ہوا ہو۔ مگر آج بھی قدیم شہر کے لوگوں کو پختہ اور سیمنٹ کانکریٹ کی روڈ بننے کا انتظار ہے ۔ کیونکہ جب تک کانکریٹ کی روڈ نہیں بن جاتی ہے اس وقت تک یہ مسئلہ جوں کاتوں برقرار رہے گا۔حالانکہ کانگریس کے لیڈران کا کہنا ہے کہ قدیم شہر کی کچھ اہم سڑکوںکے کام ہونے والے ہیں مگر ابھی تک ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔قدیم شہر کے لوگوںکا کہنا ہے کہ انکی قسمت میں شاید اب سیمنٹ کانکریٹ کی روڈ نہیں ہے بس اسی طرح گڑھوں کو بھر کر عارضی طور پر سڑک کی مرمت ہوتی رہے گی ۔