کوسہ:چوتھاسالانہ تعلیمی جشن ’’آسماں اوربھی ہیں‘‘

طلباء کے ذریعے پلوامہ کے شہیدوں کوسلامی وخراجِ عقیدت،۵؍ہزاروالدین وسرپرستوں کی شرکت

تھانے:۱۹؍فروری(ظفر اللہ خان) صوبے میں سرگرم تعلیمی ادارے یونیک ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیرِسرپرستی، کوسہ ایم ایم ویلی روڈپرواقع مولاناابوالکلام آزادؔ اسٹیڈیم میں کل سہ پہرتین بجے سے شب گیارہ بجے تک کوسہ ممبرا کے مایہ نازاسداللہ خان انگلش اسکول اینڈجونیئرکالج کے طلباواساتذہ نے اپناچوتھاسالانہ تعلیمی جشن’’آسماں اوربھی ہیں‘‘ نہایت تُزک احتشام کیساتھ منایاجسکی صدارت ادارے کی معتمدِ اعلیٰ سعیدہ بیگم خان نصیب نے کی اورفرائض نظامت معتمدِخاص سعداللہ خان کرتے نظرآئے ،اس موقعے پرتقریباً۵؍ہزاروالدین وسرپرستوں کے ساتھ مقامی علمائے کرام،اربابِ سیاست وعمائدینِ شہربھی شریک ہوئے ،اس جشن میں اسکولِ ہذٰاکے طلباء نے اساتذہ کی رہبری میں اپنی صلاحیتوں کوبروے کارلاتے ہوئے اپنی لیاقتوں کے جوہربکھیر دیئے جسے دیکھ کرسبھی عش عش کرتے نظرآئے،اس رنگارنگی تقریب میں اسکولی وجونیئرکالج کے طلباوطالبات نے مختلف عنوانات کے تحت ڈرامے،مونوایکٹ،تقاریر ونغمہ سرائی کرتے ہوئے حاضرین کے ذریعے عصرِحاضرکے لحاظ سے عوامی زندگی کیلئے اہم پیغامات کی نشرواشاعت کاموثر انداز میں آغازکیا،مہمانان کی موجودگی میں طلباواساتذہ نے سب سے پہلے پلوامی کے شہیدوں کوسلامی پیش کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کی،اُس کے بعدسالانہ کارہائے نمایاں کے مدِّنظرسوسے زائداساتذہ کی خدمات کوخراج پیش کرتے ہوئے انہیں مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں ایوارڈ،اسنادوتحائف سے نوازاگیا،اس جشن میں شریک مقامی رکنِ اسمبلی جتندرآوہاڑنے طلباکے مظاہروں کی پذیرائی کرتے ہوئے بعض طلباکوشہ نشین پراپنے پاس بلاکراُن کی خاص پذیرائی و ستائش کی،حالانکہ یہ تعلیمی جشن تھالیکن یہاں بھی موصوف کے خطبے میں کوسہ کا متنازعہ قبرستان غالب رہاجہاں انہوں نے مخالفین کی بخیئے ادھیڑے،موصوف نے حاضرین کے ٹھانٹھیں مارتے سمندر کومخاطب کرتے ہوئے کہا’’نہایت دشوارکن مراحل سے گذرکرنیاقبرستان تعمیرہوگیاہے حالانکہ بہت سے اعتراضات پیش کئے گئے لیکن تدفین کاسلسلہ جاری ہے اورجلدہی حج ہاوس لانے کامیں وعدہ کرتاہوں‘‘مسلم قائدوصوبائی رہنماجناب سیّدعلی اشرف نے کہا’’ہمیں فخرہے صوبے میں ماہرتعلیم کہلانے والے ڈاکٹراسداللہ خان ہمارے علاقے ممبرا کے باشندے ہیں جن کی بدولت ضلع شولاپور میں ۹؍ایکڑکے قطعۂ اراضی پر اسکول، کالج،ہاسٹل وغیرہ کاآغازہونے جارہاہے جس سے سماج میں پھیلے جہالت کے اندھیرے دورہوں گے لہٰذااس ادارے کانام شولاپور کے باشندوں نے خان کیمپس رکھدیا ہے،اورسبھی جانتے ہیں آوازِ خلق نقّارۂ خداہوتی ہے،اللہ سے دعاہے کہ اعظم کیمپس کی طرح خان کیمپس کوبھی مسلم طلباوطالبات کیلئے گنجِ بے بہا بنادے۔آمین‘‘آخر میں طلباکی کارکردگی پرتقسیمِ انعامات کاسلسلہ تقریباًگیارہ بجے تک جاری رہا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading