نئی دہلی :26/ستمبر(ایجنسیز) فلم اسٹار شاہ رخ خان کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2017 میں فلم رئیس کی تشہیر کے دوران وڈودرا ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی بھگدڑ پر فوجداری کیس کو بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل گجرات ہائی کورٹ نے فوجداری مقدمے کو منسوخ کرنے کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔27
اپریل کو فلم رئیس کی تشہیر کے دوران بھگدڑ کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ نے اداکار شاہ رخ خان کو راحت دی تھی۔ سال 2017 میں پروموشن کے دوران ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ مچ گئی تھی جس کے سلسلے میں اداکار کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا تھا جسے عدالت نے خارج کر دیا تھا۔
دراصل پروموشن پروگرام کے دوران ایک شخص کی موت ہو گئی تھی۔ گجرات ہائی کورٹ کے جسٹس نکھل کریل نے اس معاملے میں فیصلہ سنایا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شاہ رخ خان نے جو کام کیا ہے اسے غفلت نہیں کہا جا سکتا۔ ساتھ ہی اب اس معاملے میں سپریم کورٹ نے بھی فوجداری کیس کو بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دراصل فلم کی تشہیر کے لیے وہ ٹرین سے ممبئی سے دہلی جا رہے تھے۔ اس دوران جیسے ہی ٹرین وڈودرا ریلوے اسٹیشن پر پہنچی، شاہ رخ کو دیکھنے کے لیے کافی بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس دوران اداکار نے کچھ سمائلی للی اور ٹی شرٹس بھیڑ کے درمیان پھینک دیں اور ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس بھگدڑ کو سنبھالنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس بھگدڑ میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔