انڈیا میں دہائیوں سے ایسا دیکھا گیا ہے وزارتِ خارجہ میں اگر کوئی ایک چیز ممنوع رہی ہے تو وہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی ہے، بطور خاص پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر طویل عرصے سے جاری تنازعے میں یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔

اپنی غیر روایتی سفارت کاری کے لیے معروف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب دہلی کے لیے ایک حساس معاملے کو چھیڑ دیا تو ماہرین کو زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔
سنیچر کو انھوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکی ثالثی میں انڈیا اور پاکستان چار دن کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد ’مکمل اور فوری جنگ بندی‘ پر رضامند ہو گئے ہیں۔بعد میں ایک اور پیغام میں انھوں نے کہا: ’میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا تاکہ ایک ہزار سال بعد کشمیر کے معاملے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔‘
واضح رہے کہ کشمیر کا تنازع سنہ 1947 میں برطانوی راج سے آزادی اور تقسیم ہند کے بعد قیام پاکستان سے شروع ہوا تھا۔ دونوں ممالک کشمیر پر اپنا اپنا مکمل دعویٰ پیش کرتے ہیں لیکن وہ صرف اس کے کچھ حصے پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں۔
لیکن کئی دہائیوں پر محیط دوطرفہ مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود کوئی حل سامنے نہیں آیا۔ کشمیر کو انڈیا اپنی ریاست کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی قسم کی بات چیت، بطور خاص تیسرے فریق کی ثالثی، کو مسترد کرتا ہے۔
تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا نے گذشتہ ماہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔
انڈیا نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا جسے اسلام آباد مسترد کرتا ہے۔صدر ٹرمپ کی مداخلت اس وقت سامنے آئی جب دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازعہ مکمل جنگ کی شکل اختیار کرنے کے خطرے سے دوچار تھا۔
دونوں طرف سے لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا تھا اور دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں۔
اگرچہ امریکی ثالثوں اور سفارتی بیک چینلز نے بڑے پیمانے پر تصادم کو روکا، لیکن صدر ٹرمپ کی پیشکش نے دہلی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
سابق انڈین سیکریٹری خارجہ شیام سرن نے بی بی سی کو بتایا: ’یقینی طور پر انڈین فریق اس (پیشکش) کو خوش آئند نہیں سمجھے گا کیونکہ یہ ہمارے کئی برسوں کے طے شدہ مؤقف کے خلاف ہے۔‘دوسری طرف اسلام آباد نے ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا: ’ہم صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کی کوششوں کی حمایت کی پیشکش کو سراہتے ہیں۔ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جو جنوبی ایشیا اور اس سے آگے امن و سلامتی پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے۔‘
سنہ 2019 میں جب انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تو اس کا موقف کشمیر پر سخت ہو گیا اور اس کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ تبصروں نے بہت سے انڈینز کو ناراض کیا ہے۔ وہ ان کے بیان کو مسئلہ کشمیر کو ’بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے‘ کی کوشش سمجھتے ہیں۔انڈیا میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس پارٹی نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے اور واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے سب سے پہلے ’جنگ بندی کا اعلان‘ کیے جانے پر آل پارٹی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان جے رام رمیش نے کہا: ’کیا ہم نے تیسرے فریق کی ثالثی کے لیے دروازے کھول دیے ہیں؟ انڈین نیشنل کانگریس جاننا چاہتی ہے کہ کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطے دوبارہ بحال ہو رہے ہیں؟‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے جنگ بندی کے اعلان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک ’کسی غیرجانبدار مقام پر کئی اہم معاملات پر بات چیت شروع کرنے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔‘ اس نے انڈین حکام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔دہلی نے اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ وہ اس پر سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتا ہے۔
تاریخی طور پر انڈیا نے کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کی مخالفت کی ہے اور اس کی بنیاد سنہ 1972 میں کیے جانے والے شملہ معاہدے پر ہے۔ یہ معاہد دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1971 کی جنگ کے بعد ہوا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ’اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔‘ (بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)