کشمیر: اینٹ بھٹوں کے مزدور دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے کام میں مصروف

سری نگر: وادی کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے باعث اگرچہ غیر ریاستی سیاح، طلاب و مختلف کاریگر وادی چھوڑ گئے ہیں لیکن اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور یہاں ابھی برابر ٹھہرے ہوئے ہیں اور دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے کام کے ساتھ مصروف ہیں۔

انتظامیہ نے اگرچہ یاتریوں اور سیاحوں کو یہاں سے نکالنے کے لئے انتظامات بھی کئے اور انہیں مطلع بھی کیا لیکن ان مزدوروں کا کسی نے حال دریافت کیا نہ کسی نے ان کو یہاں سے نکلنے یا یہیں انہیں تحفظ بہم پہنچانے کا کوئی بندوبست کیا۔ وسطی ضلع بڈگام کے ایک دورافتادہ علاقے میں قائم ایک اینٹ بھٹے پر کام کرنے والے آکاش نامی ایک مزدور نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور بغیر کسی ڈر کے کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا: ‘یہاں اینٹ بھٹوں پر مزدور برابر کام کررہے ہیں، کسی کو کوئی ڈر نہیں ہے لیکن گھر والوں کے ساتھ رابطہ نہیں ہے جس سے تشویش ہورہی ہے’۔ ایک اینٹ بھٹے پر جمعدار کی حیثیت سے کام کرنے والے نور امام نے کہا کہ میں یہاں گذشتہ دو دہائی سے کام کررہا ہوں اور جب تک زندہ ہوں یہاں کام کرنے آتا رہوں گا۔

انہوں نے کہا : ‘میں پچھلے بیس برسوں سے یہاں مختلف بھٹوں پر کام کرنے لگاتار آتا ہوں کبھی کوئی مشکل نہیں ہوئی ہے آج بھی ہم یہاں آرام کے ساتھ کام کررہے ہیں’۔ نور امام نے کہا کہ ہم یہاں سے نہیں بھاگیں گے کیونکہ ہمیں کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا ہے۔
اترپردیش سے تعلق رکھنے والے راجیش نامی ایک مزدور نے کہا کہ میں یہاں اپنے بیوی بچے سمیت پانچ برسوں سے لگاتار آتا ہوں۔

انہوں نے کہا: ‘میں اپنے بیوی بچے سمیت یہاں پچھلے پانچ برسوں لگاتار آرہاہوں اور مختلف بھٹوں پر کام کرکے اپنا اور ان کا پیٹ پالتا ہوں اگر میں واپس چلا جاؤں گا تو کام نہ ملنے کی صورت میں بچے فاقہ سے مر جائیں گے، یہاں میں اچھی طرح کام کرتا ہوں اور روزی روٹی کماتا ہوں میں واپس کیوں جاؤں گا’۔ راجیش نے کہا تاہم موبائل فون بند ہونے کہ وجہ سے بہت ہی پریشانی ہوئی۔

انہوں نے کہا: ‘موبائل فون بند ہونے کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد سے رابطہ نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے بہت ہی پریشانی ہوئی ہے ان کے بارے میں کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور وہ لوگ ہمارے متعلق زیادہ ہی پریشان ہوں گے’۔ ایک بھٹے کے مالک نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ میرے بھٹے پر مزدور برابر کام کررہے ہیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انتظامیہ کی طرف سے ان غیر ریاستی مزدورں کے متعلق کسی قسم کی بات ہوئی، کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘انتظامیہ کی طرف سے ان مزدوروں کے بارے میں ہمارے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی لیکن ہم نے خود ہی ان مزدوروں کو تحفظ کا یقین دلایا وہ بھی یہاں مطمئن ہوکر کام کررہے ہیں اور کسی کو بھی بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے’۔

ایک مقامی شہری نے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے ان غیر ریاستی مزدوروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ‘یہ لوگ غریب ہیں، انتہائی محنت ومشقت کرکے بمشکل ہی اپنا اور اپنے عیال کا پیٹ پالتے ہیں، انتظامیہ نے سیاحوں وغیرہ کو یہاں سے نکالنے کے لئے انتطامات تو کئے لیکن انہیں یہیں چھوڑ دیا گیا شاید ان کی کوئی قدروقیمت ہی نہیں ہے انہیں بے یار ویاور چھوڑ دیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ تاہم کشمیری لوگ ان کی قدر کریں گے اور انہیں اس مشکل گھڑی میں روزگار بھی دیں گے اور دوسری قسم کی ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ماہ اگست کی دو تاریخ کو حکومت کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوا تھا جس میں یاتریوں، غیر ریاستی سیاحوں اور طلبا کو وادی چھوڑنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading