ناندیڑ:(نقی شاداب کی رپورٹ)مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کہ پروگرام کا اعلان ہو چکا ہے اور22 اکتوبر سے پرچے نامزدگیوں کے ادخال کا آغاز ہو جائے گا جو 29 اکتوبر تک جاری رہے گا جب کہ ریاست میں ایک مرحلے میں 20 نومبر کو رائے دہی عمل میں آ رہی ہے اور 23 نومبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ مہاراشٹر میں مہا ویکاس اگھاڑی جس میں کانگریس ،راشٹروادی کانگرس پارٹی (شردپوار گروپ )اور اودھو بالا صاحبشیو سینا یعنی یو بی ٹی ا دو بالا صاحب ٹھاکرے کا گروپ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دوسری جانب برسر اقتدار یعنی شندے شیوسیناگروپ اور بی جے پی دونوں اپنے اپنے امیدواروں کی فہرستوں کو قطعیت دینے میں مصروف ہے ۔
ریاست مہاراشٹرکے ایک حلقہ لوک سبھااورر اسمبلی انتخاب کی9 سیٹوں پر مشتمل کیساتھ اہم ضلع ہے ۔جہاں پر اسمبلی کی کل نو نشستیں ہیں اور ووٹرز کی تعداد تقریبا 27 لاکھ کے قریب ہے ناندیڑ شہر کے دو حلقے اسمبلی جنوب اور شمال میں انتخابی سرگرمیاں کافی عروج پر ہے اس کے حلقہ جنوب سے گزشتہ انتخابات میں کانگریس کی جانب سے موہن راونا ہمبرڈے منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے الیکشن سے صرف 17 دن قبل انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کانگریس پارٹی نے اچانک ان کی امیدداری کا اعلان کیا تھا اس سے قبل سیاست میں انہیں شاید ہی جانتے ہوں گے ۔
البتہ ان کی فیملی کے دیگر افراد دیگر پارٹیوں میں سرگرم ہے اس کے علاوہ ناندیڑ حلقے شمال سے اس وقت کی شیو سینا سے شری بالاجی راوکلیان کر منتخب ہوئے تھے جبکہ کانگرس پارٹی کا امیدوار ڈی پی ساونت دوسرے مقام پر اور مجلس کا امیدوار فیروز لالہ تیسرے مقام پر رہے تھے لیکن گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں ریاست مہاراشٹر میں سیاسی صورتحال کافی زیادہ تبدیل ہو چکی ہے اورراشٹروادی کانگرس اور شیو سینا دو دھڑوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست نے برسر اقتدار مہاویکاس اگھاڑی کی حکومت بھی ختم ہو گئی اور گزشتہ دو ڈھائی سال سے ریاست میں بی جے پی اور شیو سینا شندے گروپ کی حکومت اقتدار میں ہے اس لیے ریاست میں جہاں پہلے چار پارٹیاں زیادہ اہم تھیں اب ان کی تعداد چھ ہو گئی ہے کیونکہ شیو سینا دو حصوں میں اور راشٹروادی کانگریس پارٹی بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑ ی نے شو سینا اور بی جے پی کو زبردست ٹکر دی اور ریاست میں تقریبا تین تہائی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جس میں بی جے پی کو کافی نقصان پہنچا۔ دوسری جانب ریاست میں گزشتہ چند سالوں سے مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ کافی طول پکڑا ہوا ہے اور اس کے لیے ریاست بھر میں کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کا اثر لوک سبھا انتخابات میں خاطر خواہ اثر نظرآایا اور جس میں اور بی جے پی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا
جبکہ مہاس ویکاس ا گاڑی کو مراٹھواڑہ ا سماج نے کافی تائید کی اور انہیں بھرپور ووٹوں سے نوازتے ہوئے ان کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا ۔فی الحال اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کوقطعیت دینے میں مصروف ہے ۔ شہر کے شمال اور جنوب حلقے اسمبلی میں کانگریس پارٹی مشکلات میں نظر آرہی ہے کیونکہ حلقے جنوب کے کانگریس کے رکن اسمبلی ہمبرڈے پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے امیدوار کو ووٹ دیا حالانکہ ہمبرڈے کئی مرتبہ اس الزام سے انکار کرتے آ رہے ہیں ۔اس کے علاوہ ناندیڑ ضلع کے دیگلور کے رکن اسمبلی ا انتاپورکر نے بھی بی جے پی کا ساتھ دیا تھا اس لیے پارٹی نے انہیں معطل کر دیا ہے اور فی الحال انتا پور کر بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں ۔
اسی طرح کانگریس کے سینیئر قائد اور سابقہ وزیراعلی اشوک راو چوہان نے بھی لوک سبھا انتخابات سے قبل کانگریس کو خیر آباد کہتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی اس کے بعد ایسا کہا جا رہا تھا کہ ناندیڑ میں کانگریس کا قلعہ ڈھہہ گیا ہے اور یہاں پر اب کانگریس کے امیدوار کی کامیابی ممکن نہیں ہے لیکن لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا اور وسنت راو چوہان کو میدان میں اتارا تھا جنہوں نے اس وقت کے بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ پرتا پ پاٹل چکھلیکر کر کو شکست دی ۔ اس کے بعدناندیڑمیں کانگریس میں ایک نئی جان آ گئی اور اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی نے مزید طاقت کے ساتھ اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ فی الحال اسمبلی انتخابات کے لیے جو سرگرمیاں جاری ہےں اس میں سب سے اہم مسئلہ ناندیڑ شمال اور جنوب سے کانگریس کا ٹکٹ کس امیدوارکودیاجائے۔
کیونکہ ایسا کہا جا رہا ہے کہ کانگریس پارٹی موہن ہمبرڈے کو اس مرتبہ ٹکٹ دینے کے موڈ میں نہیں ہے ۔ جبکہ ناندیڑ کے ایک حلقے شمال سے مسلمان کو کانگریس کا ٹکٹ دینے کا مطالبہ شدت سے کیا جا رہا ہے جس پر خود کانگریس پارٹی سنجیدگی سے غور بھی کر رہی ہے لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ایا ہے اس طرح ناندیڑکے دونوں حلقے شمال اور جنوب سے کانگریس پارٹی کس امیدوار کو ٹکٹ دے گی اس پر پارٹی ذرائع نے ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے اور عوام بھی شدت سے ان حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان سننا چاہتی ہے۔ایسی اطلاع ہے کہ ایک دو دن میں کانگرس پارٹی اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دے گی جس سے ریاست بالخصوص ناندیڑکی صورتحال بھی شاید واضح ہو جائے گی۔ مون ہمبرڈے بھی یہ چاہتے ہیں کہ حلقہ جنوب سے انہیں ٹکٹ دیا جائے جبکہ ناندیڑ حلقے شمال سے کانگرس پارٹی کسی مسلم کو امیدواری دے جس کا فائدہ ہمبرڈے کو ان کے حلقہ میں ہوجائے گا۔