
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ غزہ پر ایک ایسے طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں، جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔‘
ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ سب کو صدر ٹرمپ کی اس تجویز پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ وہ غزہ پر قبضہ کر کے وہاں کے رہائشیوں کو کسی ’خوبصورت زمین‘ پر دوبارہ آباد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کا کہنا ہے کہ ’جو انھیں کسی خوشگوار، اچھی جگہ بھیجنا چاہتے ہیں، وہ انھیں اسرائیل میں ان کے اصل گھروں کو واپس جانے دیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مشن کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ریاض منصور کا کہنا ہے کہ، ’ہمار وطن ہمارا ہے۔۔۔۔ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کرنا چاہتے ہیں، سکول، ہسپتال، انفراسٹرکچر – کیوں کہ ان کا یہیں سے تعلق ہے اور وہ یہیں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں رہنماؤں کو فلسطینی عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔‘