ڈا ئے گھرپولیس نے آتشی اسلحے سمیت ایک کوگرفتارکیا

گزشتہ سال سے بیشترملزمین کوپولیس نے طشت ازبام توکیالیکن یہ واضح نہیں کتنے کیفرِکردارکوجاپہنچے

تھانے:۴۲فروری(ظفر اللہ خان)ملی جانکاری کے مطابق گزشتہ دنوں ڈائے گھرپولیس سپاہی نے مخبرکی اطلاع پرممبئی پنویل قومی شاہراہ پرچہل قدمی کر رہے ایک مشتبہ راہگیرکے پاس سے آتشی اسلحہ وزندہ کارتوس برآمدکئے،مصدقہ ذرائع کے مطابق بیتے دنوں ڈائیگھر پولیس اسٹیشن میں تعینات پولیس سپاہی سُشانت پاٹل کوایک مخبرنے بتایا کہ ممبئی پنویل قومی شاہراہ پروِپُل لاج کے قریب ایک مشکوک فرد آتشی اسلحے سمیت گھوم رہاہے،اطلاع پاتے ہی فوراًپاٹل نے مخبرسے ملی جانکاریوں سے اعلیٰ افسران کو آگاہ کیالہٰذااعلیٰ افسران نے ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کے تحت خاتون پولیس سب انسپکٹرروپالی بورسے کومعاملے سے آگاہ کرتے ہوئے اُن کی قیادت میں پولیس اہلکاران کی ایک چھاپہ مارٹیم بنا کرمشکوک شخص کی سرکوبی کے لئے بھیج دیا،روپالی بورسے کی ٹیم مخبرکی بتائی جگہ کاخفیہ محاصرہ کرنے جاپہنچی اورڈائے گھرپولیس کی حدودمیںوِپُل لاج کے قریب جونہی مشکوک گھومتانظرآیاپولیس چھاپہ مار ٹیم نے اپنا محاصرہ تنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کودھر لیا،حراست میں لینے کے بعدپولیس نے اُس شخص سے اُس متعلق پوچھاتواُس نے اپنانام محمدتوصیف شاہد شیخ(۸۲)ساکن:زلیخااپارٹمنٹ، امرت نگر،عقب مبین اپارٹمنٹ،ممبرابتایا،پولیس نے مخبرکی اطلاع پراُس کی مکمل تلاشی لی تواُس کے کمر سے ایک دیسی ساخت کابظاہر میڈاِن انگلینڈریوالور،دوزندہ کارتوس کیساتھ ملا،لہٰذاچھاپہ مارپولیس ٹیم مشتبہ شخص کواپنی حراست میں ڈائیگھرپولیس اسٹیشن لے آئی اوراشدضروری امور کے بعدتھانے کمشنرکے حکمِ امتنائی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی دیسی ساخت کے آتشی اسلحے رکھنے کی پاداش میں ملزم کوقانون کے تحت گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیاجہاں پیشی کے بعد عدالت نے ملزم کومزیدتفتیش کےلئے ڈائیگھرپولیس کی تحویل میں بھیج دیاہے، واضح رہے حالانکہ مذکورہ کارروائی کی عوامی کی جانب سے علاقے میں کافی پذیرائی کی جارہی ہے لیکن دوسری جانب مقامی باشندگان اس تشویش میں مبتلاہےں کہ گزشتہ سال سے اب تک ممبرا،دیوااورڈائے گھرکے علاقے میں کئی وارداتوں میں دھماکہ خیزاشیاءاورآتشیں اسلحوں سمیت کئی ملزمین کوپولیس نے طشت ازبام توکیاہے لیکن یہ واضح نہیں ہوپایا کہ ملزمین کی گرفتاریوں کے بعدمزیدتفتیش کے دوران یہ پتانہیں کہ اسلحے دراصل کہاں سے آتے ہیں ؟قانون کے تحت کتنے غیرقانونی کارخانوں پرکارروائیاں ہوئی ہیں اورکتنے ملزمین عدالتی کارروائیوں کے بعدکیفرِکردارکوجاپہنچے؟مسلسل مذکورہ بالاواردتوں سے یہ گمان گذرتاہے گویامذکورہ بالا علاقے غیرقانونی اسلحوں کے سوداگروں کی منڈی بنتے جارہے ہےں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading