وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز اپنی حکومت کے دوسرے دور کے پہلے 6 مہینوں کو کچھ اس طرح متعارف کرایا ہے کہ اس میں ترقی کی زبردست لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس اور سب کا وِشواس کے منتر 130 کروڑ ہندوستانیوں کے آشیرواد سے این ڈی اے حکومت لگاتار ہندوستان کی ترقی اور 130 کروڑ لوگوں کی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی توانائی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔‘‘
During the last six months, we have taken numerous decisions that have furthered development, accelerated social empowerment and enhanced India’s unity. We aspire to do even more in the times to come, so that we create a prosperous and progressive New India. #6MonthsOfIndiaFirst
— Narendra Modi (@narendramodi) November 30, 2019
پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ 6 مہینے کے دوران ترقی کو رفتار دینے، سماجی خود مختاری کو بڑھانے اور ہندوستان کے اتحاد کو مضبوطی دینے کے لیے تمام فیصلے لیے گئے ہیں۔ ہم آنے والے وقت میں ایسے مزید قدم اٹھانے والے ہیں تاکہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ جدید ہندوستان کی تعمیر ہو سکے۔‘‘
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ 130 کروڑ لوگوں کی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی توانائی سے کام کر رہے ہیں، لیکن تین سال پہلے کی نوٹ بندی اور بغیر تیاری کے نافذ کیے گئے جی ایس ٹی نے عام ہندوستانیوں کی زندگی کو مصیبت سے بھر دیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے کور سیکٹر کی ترقی میں 5.8 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔

وزیر اعظم کے اس بیان سے کم از کم ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھیں ملک کی زمینی حقیقت کے بارے میں ذرا بھی پتہ نہیں ہے۔ کل ہی (جمعہ کو) ملک کی ترقی کو ظاہر کرنے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ معاشی ترقی کی شرح ساڑھے چھ سال کی ذیلی سطح کو چھوتی ہوئی 4.5 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ 8 کور سیکٹر لہولہان ہیں۔ گزشتہ سال سے مقابلہ کریں تو شرح ترقی میں تقریباً 3 فیصد کی گراوٹ درج ہوئی ہے۔ لیکن وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

اکتوبر ماہ میں خوردہ مہنگائی کی شرح 16 مہینے کی اونچی سطح پر ہے۔ بے روزگاری ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ صارف خرچ چار دہائی کی ذیلی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
